IPL likely to be scrapped from March-May window, confirms Arun Dhumal – آئی پی ایل کی تاریخ میں بڑی تبدیلی کا امکان: ٹورنامنٹ کی ونڈو تبدیل کرنے پر غور
آئی پی ایل کی ونڈو میں تبدیلی: ایک نیا موڑ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی تاریخ میں جلد ہی ایک بہت بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے کہ آئی پی ایل کو اس کی روایتی ونڈو یعنی مارچ، اپریل اور مئی سے نکال کر کسی اور وقت منتقل کیا جائے۔ آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہندوستان کی شدید گرمی اور کھلاڑیوں پر بڑھتا ہوا ورک لوڈ بی سی سی آئی کے لیے بڑی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔
روایتی شیڈول اور بدلتے تقاضے
تقریباً دو دہائیوں سے، آئی پی ایل کا انعقاد موسم بہار کے اختتام اور موسم گرما کے آغاز میں ہوتا رہا ہے۔ تاہم، 2028 کے بعد میچوں کی تعداد میں اضافے کے منصوبوں کے ساتھ، بی سی سی آئی اب ایسے راستے تلاش کر رہا ہے جو کھلاڑیوں، براڈکاسٹرز، اسپانسرز اور شائقین کے لیے زیادہ سہولت بخش ہوں۔ اس وقت آئی پی ایل میں 10 ٹیمیں شامل ہیں اور دو ماہ کے مختصر دورانیے میں 74 میچ کھیلے جاتے ہیں۔
موسمی مشکلات اور کھلاڑیوں کی صحت
آئی پی ایل چیئرمین ارون دھومل کا ماننا ہے کہ مئی کے مہینے میں ہندوستان کے زیادہ تر مقامات پر درجہ حرارت ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ کھلاڑی اکثر میچوں اور پریکٹس سیشنز کے دوران تھکن اور پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا شکار ہوتے ہیں۔ جب ٹورنامنٹ طویل ہوگا اور میچوں کی تعداد بڑھے گی، تو ایسی سخت موسمی حالات میں کھلاڑیوں کی کارکردگی اور صحت کو برقرار رکھنا ایک چیلنج بن جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آئی پی ایل کی گورننگ کونسل نے نئی ونڈو پر بات چیت شروع کر دی ہے۔
کاروباری اور تجارتی پہلو
صرف کھلاڑیوں کی صحت ہی نہیں، بلکہ اس تبدیلی کے پیچھے ایک مضبوط کاروباری پہلو بھی کارفرما ہے۔ ستمبر-اکتوبر کی ونڈو دیوالی کے تہوار سے عین پہلے آتی ہے، جو ہندوستان میں برانڈز اور مشتہرین کے لیے سب سے اہم سیزن سمجھا جاتا ہے۔ ارون دھومل نے واضح کیا کہ ایک ایسا آئی پی ایل جو دیوالی کے قریب ہو، وہ کہیں زیادہ اسپانسرشپ ڈیلز اور ریکارڈ توڑ اشتہاری آمدنی کا باعث بن سکتا ہے۔
چیلنجز اور مستقبل کا لائحہ عمل
ارون دھومل نے ‘اسپورٹ اسٹار’ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا: “ہمیں براڈکاسٹرز کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی ہوگی کہ کیا ٹورنامنٹ کو کسی اور ونڈو میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ستمبر-اکتوبر کا وقت مشتہرین کے نقطہ نظر سے بہترین ہے۔ ہم جب اگلا بائی لیٹرل ٹینڈر آئے گا تو اس پر غور کریں گے۔”
تاہم، یہ تبدیلی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ بی سی سی آئی کو نہ صرف براڈکاسٹرز بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کیلنڈر اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ کرکٹ کے دیگر ممالک کے ساتھ شیڈول کا ٹکراؤ اس فیصلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو سکتا ہے۔
آئی پی ایل 2026 کا عروج
دوسری جانب، آئی پی ایل 2026 کا سیزن اب اپنے فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) نے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، جبکہ سن رائزرز حیدرآباد (SRH) اور راجستھان رائلز (RR) کے درمیان ایلیمینیٹر کھیلا جائے گا۔ ایلیمینیٹر 27 مئی کو نئی چنڈی گڑھ کے مہاراجہ یادویندر سنگھ پی سی اے اسٹیڈیم میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد، فاتح ٹیم 29 مئی کو کوالیفائر 2 میں گجرات ٹائٹنز (GT) کا سامنا کرے گی تاکہ فائنل کا دوسرا حصہ دار طے کیا جا سکے۔
آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بی سی سی آئی واقعی اپنے روایتی شیڈول کو خیرباد کہہ کر ایک نئی تاریخ رقم کرتا ہے یا نہیں۔
