Your Source for Cricket Stats & Insights
News

Ashwin sees ‘no reason’ why Kohli and Rohit shouldn’t play 2027 ODI World Cup

Arjun Mehta · · 1 min read

کرکٹ کے دو عظیم ستون: کیا کوہلی اور روہت 2027 کا ورلڈ کپ کھیلیں گے؟

کرکٹ کی دنیا میں اس وقت سب سے بڑی بحث یہ ہے کہ کیا ویرات کوہلی اور روہت شرما 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ایکشن میں نظر آئیں گے؟ جنوبی افریقہ، نمیبیا اور زمبابوے میں ہونے والے اس میگا ایونٹ کے وقت کوہلی کی عمر 39 سال کے قریب ہوگی جبکہ روہت شرما 40 برس کی دہلیز عبور کر چکے ہوں گے۔ بھارتی اسپنر روی چندرن اشون کا ماننا ہے کہ اس معاملے کو ایک شادی کی طرح دیکھنا چاہیے جہاں دو طرفہ مفاہمت اور مثبت توانائی بہت ضروری ہے۔

اشون کا تجزیہ: تجربے اور فٹنس کا امتزاج

اشون نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ٹیم انتظامیہ ان دونوں کھلاڑیوں کو 50 اوور کے ورلڈ کپ میں دیکھنا چاہتی ہے اور ماحول میں مثبت توانائی موجود ہے، تو ان کا ٹیم میں برقرار رہنا اور تجربے سے فائدہ اٹھانا بالکل ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کھلاڑیوں کو انتظامیہ کی طرف سے مکمل اعتماد ملے، تو وہ اپنی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے دگنی محنت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

فٹنس اور عمر کے چیلنجز

اشون نے تسلیم کیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کا ردعمل بدل جاتا ہے اور 32 سال کی عمر کے بعد کھلاڑیوں کو خود کو ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک منظم بحالی پروگرام (rehab program) موجود ہو، تو کوہلی اور روہت جیسے فٹنس کے دیوانے کھلاڑی اس چیلنج پر قابو پا سکتے ہیں۔ تاہم، اگر کھلاڑیوں کے ذہن میں ذرا سا بھی شک پیدا کیا جائے، تو ان کے لیے میدان میں پرفارم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

موجودہ فارم کا جائزہ

2025 سے اب تک کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو یہ دونوں بلے باز اب بھی ٹیم انڈیا کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

  • ویرات کوہلی: 891 رنز، 68.53 کی اوسط، 4 سنچریاں اور 5 نصف سنچریاں۔
  • روہت شرما: 711 رنز، 44.43 کی اوسط، 2 سنچریاں اور 4 نصف سنچریاں۔

یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ کوہلی اور روہت اب بھی ون ڈے کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ کوہلی کو ہیمسٹرنگ انجری کے مسائل رہے ہیں اور روہت بھی فٹنس پر کام کر رہے ہیں، لیکن ان کی مہارت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

روہت شرما کا خواب

اشون کے مطابق روہت شرما کے لیے 2027 کا ورلڈ کپ ایک بڑا ہدف ہو سکتا ہے کیونکہ ان کی الماری میں ابھی تک ون ڈے ورلڈ کپ ٹرافی کی کمی ہے۔ وہ یقینی طور پر ایک اور عالمی ٹائٹل جیت کر اپنے کیریئر کو سنہری یادگار بنانا چاہیں گے۔ اشون کا ماننا ہے کہ جب آپ کے پاس کوہلی اور روہت جیسا تجربہ ہو، تو خاص طور پر جنوبی افریقہ جیسی کنڈیشنز میں ان کا ہونا ٹیم کو ناقابل شکست بنا سکتا ہے۔

نتیجہ

مختصراً، اشون کی رائے یہ ہے کہ اگر مینجمنٹ اور کھلاڑی ایک دوسرے کے لیے بہترین سوچ رکھتے ہیں، تو کوہلی اور روہت نہ صرف 2027 کے ورلڈ کپ تک پہنچ سکتے ہیں بلکہ ٹیم کو فاتح بھی بنا سکتے ہیں۔ ان کا تجربہ اور مہارت کسی بھی ٹیم کے لیے اثاثہ ہے، اور جب تک وہ فارم اور فٹنس کے معیار پر پورا اترتے ہیں، انہیں میدان سے باہر رکھنے کی کوئی ٹھوس وجہ نظر نہیں آتی۔

Avatar photo
Arjun Mehta

Arjun Mehta covers breaking cricket news, transfer updates, injury reports, and major developments in Indian cricket.