Your Source for Cricket Stats & Insights
Bangladesh Cricket

Nayeem Hasan breaks down in tears while describing alleged police abuse

Arjun Mehta · · 1 min read

بنگلہ دیشی کرکٹر پر پولیس کا مبینہ تشدد: ایک المناک واقعہ

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے نوجوان اسپنر نعیم حسن کے ساتھ پیش آنے والا حالیہ واقعہ کھیل کے میدان سے باہر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ نعیم حسن نے الزام لگایا ہے کہ ڈھاکا پریمیئر لیگ (DPL) میں شرکت کے بعد جب وہ اپنے آبائی شہر چٹاگانگ واپس پہنچے تو انہیں پولیس افسران کی جانب سے ہراساں کیا گیا اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعے کی تفصیلات: نعیم حسن کی زبانی

پچیس سالہ ٹیسٹ کرکٹر نے میڈیا کے سامنے اس خوفناک تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ رات کے وقت ایئرپورٹ سے اپنے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں روک لیا گیا۔ نعیم حسن نے بتایا: ‘میں نے ابھی ایک میچ کھیل کر واپسی کی تھی۔ ہماری فلائٹ رات دس بج کر بیس منٹ پر پہنچی۔ مجھے کوئی گاڑی نہیں ملی تو میں سی این جی آٹو رکشہ میں سوار ہو گیا۔ ٹول پلازہ کے قریب ایک ٹریفک پولیس افسر نے ہمیں روکا۔’

واقعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایس آئی شفیق نامی افسر نے انہیں زبردستی ایک گاڑی میں دھکیل دیا اور دروازے لاک کر دیے۔ نعیم کے مطابق، ان کے بار بار پوچھنے کے باوجود کہ انہیں کیوں روکا گیا ہے، افسر نے انہیں دھمکیاں دیں۔ نعیم نے بتایا کہ انہیں کہا گیا کہ وہ ایک ‘ملزم’ ہیں اور خاموش رہیں۔

جسمانی تشدد اور تذلیل کے الزامات

نعیم حسن نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے نہ صرف ان کا موبائل فون چھین لیا بلکہ ان کا گلا بھی دبایا۔ کرکٹر نے کہا: ‘انہوں نے میرا گلا پکڑا۔ میں نے شور مچانا شروع کیا اور اپنے والد کو کال کرنے کی کوشش کی۔ وہاں موجود لوگوں نے میری شناخت کی تصدیق بھی کی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے میرا گلا نہیں چھوڑا۔’

انہوں نے مزید بتایا کہ ایس آئی شفیق نے انہیں لاٹھی (بیٹن) سے بھی مارا۔ نعیم کے مطابق، اس وقت وہاں تقریباً 100 لوگ موجود تھے جنہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم کے کھلاڑی ہیں، لیکن ان کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

تھانے میں پیش آنے والا رویہ

نعیم حسن نے بتایا کہ انہیں تھانے لے جایا گیا جہاں انہوں نے افسر انچارج کے سامنے اپنی شناخت کروائی۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ان کے ساتھ انتہائی بدتمیزی سے بات کی گئی اور انہیں آنکھیں نیچی رکھنے کا کہا گیا۔ تاہم، جب حکام کو اعلیٰ سطح سے فون کالز موصول ہوئیں تو ان کے رویے میں اچانک تبدیلی آگئی۔

کرکٹ برادری میں تشویش

ایک قومی کھلاڑی کے ساتھ اس طرح کا سلوک بنگلہ دیشی کرکٹ حلقوں میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے۔ نعیم حسن کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ بار بار اپنی شناخت کروانے کے باوجود انہیں اس قدر تشدد کا نشانہ کیوں بنایا گیا۔ ‘میں نے انہیں بار بار بتایا کہ میں قومی ٹیم کا کھلاڑی ہوں اور بنگلہ دیش کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا ہوں، لیکن کسی نے میری ایک نہ سنی،’ نعیم نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا۔

یہ واقعہ کھیلوں کی دنیا کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے، جہاں ایک کھلاڑی جو ملک کی نمائندگی کرتا ہے، خود اپنے ہی ملک میں تحفظ کے احساس سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ فی الحال اس معاملے پر قانونی کارروائی اور متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

Avatar photo
Arjun Mehta

Arjun Mehta covers breaking cricket news, transfer updates, injury reports, and major developments in Indian cricket.