آئی پی ایل 2026: ایک نیا تنازعہ
آئی پی ایل 2026 کا سیزن جہاں اپنی تیز رفتار کرکٹ اور سنسنی خیز مقابلوں کے لیے جانا جا رہا ہے، وہیں لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے نوجوان فاسٹ بولر آکاش سنگھ کا ایک ‘انوکھا جشن’ اب ایک بڑی بحث کا سبب بن گیا ہے۔ چنئی سپر کنگز (CSK) کے خلاف میچ کے دوران، آکاش سنگھ نے وکٹیں لینے کے بعد اپنی جیب سے ہاتھ سے لکھے ہوئے کاغذ کے نوٹ نکال کر کیمرے کے سامنے دکھائے، جس نے نہ صرف شائقین کو حیران کیا بلکہ سابق کرکٹرز کی ایک بڑی تعداد کو بھی ناراض کر دیا ہے۔
آکاش سنگھ کی شاندار کارکردگی اور متنازعہ جشن
جمعہ 15 مئی کو کھیلے گئے میچ میں آکاش سنگھ نے گیند کے ساتھ شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے رتوراج گائیکواڑ، سنجو سیمسن اور ارویل پٹیل جیسے بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھا کر 4 اوورز میں 26 رنز کے عوض 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی کارکردگی نے لکھنؤ کو جیت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، لیکن میچ کے بعد چرچا ان کی کارکردگی سے زیادہ ان کے جشن کی رہی۔ رتوراج کی وکٹ لینے کے بعد انہوں نے ایک نوٹ نکالا جس پر لکھا تھا: #Akkionfire—Akash knows how to take wickets in a T20 game.
سابق کرکٹرز کی شدید تنقید
اس واقعے کے بعد کرکٹ کے سابق کھلاڑیوں نے کھل کر اس اندازِ جشن کی مخالفت کی ہے۔ نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر مچل میک کلہینن نے ESPNCricinfo کے شو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا: ‘میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک نوجوان کھلاڑی کو یہ خیال کیسے آیا کہ ٹی وی پر یہ سب کرنا اچھا لگے گا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ نئی نسل کیا کر رہی ہے۔ آپ نے ابھی چار میچ کھیلے ہیں اور آپ کے اتنے دشمن کہاں سے آگئے کہ آپ کو یہ سب کرنا پڑا؟ اسے دوبارہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ احمقانہ ہے۔’
دوسری جانب، امباتی رائیڈو نے بھی اس رجحان کو ‘مکمل طور پر بکواس’ قرار دیا۔ رائیڈو کا ماننا ہے کہ میدان میں کاغذ کی چٹیں لانے کا کوئی جواز نہیں ہے اور بی سی سی آئی کو اس طرح کے عمل پر فوری پابندی عائد کر دینی چاہیے۔
جسٹن لینگر کا ردعمل اور کھلاڑی کی وضاحت
لکھنؤ سپر جائنٹس کے ہیڈ کوچ جسٹن لینگر بھی اس جشن سے لاعلم نظر آئے۔ میچ کے دوران جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے حیرانی کا اظہار کیا اور عندیہ دیا کہ ٹیم انتظامیہ آکاش سنگھ سے اس معاملے پر بات کرے گی۔
دوسری طرف، آکاش سنگھ کا اپنا موقف یہ ہے کہ یہ کاغذ کے نوٹ صرف ان کی ذاتی حوصلہ افزائی کے لیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دباؤ میں بولنگ کرتے وقت یہ پیغامات انہیں پر اعتماد رہنے اور اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
کیا یہ جشن ایک نیا ٹرینڈ ہے؟
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب آئی پی ایل میں کھلاڑیوں نے کاغذ کے نوٹ استعمال کیے ہوں۔ گزشتہ سیزن میں ابھیشیک شرما نے سن رائزرز حیدرآباد کے شائقین کے لیے ایسا ہی ایک پیغام دکھایا تھا، جس کے بعد سے یہ ایک ٹرینڈ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم، ڈیل سٹین سمیت کئی لیجنڈز کا ماننا ہے کہ اس طرح کے کرتب کھیل کی سنجیدگی کو متاثر کرتے ہیں اور انہیں کھیل کے میدان سے دور رکھنا چاہیے۔
آئی پی ایل کی انتظامیہ اب اس معاملے پر کیا فیصلہ کرتی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ کیا اس طرح کے جشن پر پابندی لگے گی یا یہ ‘نوجوانوں کا جوش’ کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے گا؟ کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کی نظریں اب اس پر مرکوز ہیں کہ آیا اس تنازعہ کے بعد میدان پر کھلاڑیوں کے رویے میں کوئی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔
