آئی پی ایل 2026: آکاش سنگھ کا متنازع جشن اور بحث کا آغاز
آئی پی ایل کے میدانوں میں کھلاڑیوں کے منفرد جشن منانے کے انداز ہمیشہ سے ہی توجہ کا مرکز رہے ہیں، لیکن حال ہی میں لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے نوجوان فاسٹ بولر آکاش سنگھ نے ایک ایسا انداز اپنایا جس نے کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ 15 مئی کو چنئی سپر کنگز (CSK) کے خلاف کھیلے گئے ایک اہم مقابلے کے دوران آکاش سنگھ نے وکٹ حاصل کرنے کے بعد اپنی جیب سے ایک تہہ شدہ کاغذ نکالا اور اسے کیمرے کے سامنے لہرایا۔ یہ محض ایک کاغذ نہیں تھا بلکہ ایک پیغام تھا جس نے سابق کھلاڑیوں اور ماہرین کو سیخ پا کر دیا ہے۔
جشن کے پیچھے چھپا پیغام: آکاش نے پرچی پر کیا لکھا؟
لکھنؤ کے ایکانہ کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں آکاش سنگھ اپنی بہترین فارم میں نظر آئے۔ انہوں نے چنئی سپر کنگز کے کپتان رتوراج گائیکواڈ، سنجو سیمسن اور ارویل پٹیل جیسی اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ہر وکٹ کے بعد انہوں نے اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا جس پر لکھا تھا: #Akki on fire – Akash knows how to take wickets in T20 game (آکی فارم میں ہے – آکاش جانتا ہے کہ ٹی 20 میچ میں وکٹیں کیسے لی جاتی ہیں)۔
یہ رجحان دراصل آئی پی ایل 2025 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ابھیشیک شرما نے سن رائزرز حیدرآباد کے لیے سنچری اسکور کرنے کے بعد اسی طرح کا جشن منایا تھا۔ تب سے کئی کھلاڑیوں نے اس آئیڈیا کو مختلف طریقوں سے کاپی کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن آکاش سنگھ کا یہ انداز سب سے زیادہ تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔
کرکٹ لیجنڈز کی ناراضگی: ڈیل اسٹین اور امباتی رائیڈو کا ردعمل
جنوبی افریقہ کے سابق مایہ ناز فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے اس جشن کو بالکل پسند نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اب ان کاغذات کو دور رکھنے کا وقت آ گیا ہے۔ اسٹین کے مطابق یہ کوئی ٹرینڈ نہیں ہے اور نہ ہی کبھی تھا۔ ان کا اشارہ واضح تھا کہ کرکٹ کے میدان میں ایسی حرکات کھیل کے معیار کے مطابق نہیں ہیں۔
دوسری جانب، چنئی سپر کنگز کے سابق بلے باز امباتی رائیڈو نے ایک نجی ٹی وی شو کے دوران اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ رائیڈو کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو میدان میں اس طرح کی چٹ یا نوٹ لے جانے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس عمل کو ‘فضول’ قرار دیتے ہوئے آئی پی ایل حکام سے مطالبہ کیا کہ اس پر فوری طور پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ رائیڈو کے مطابق یہ کھیل کی روح کے خلاف ہے اور کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی سے جواب دینا چاہیے نہ کہ پرچیوں سے۔
آکاش سنگھ کا دفاع: ‘یہ صرف میری حوصلہ افزائی کے لیے ہے’
تنقید کے جواب میں آکاش سنگھ نے میچ کے بعد اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس جشن کے پیچھے کوئی گہرا مقصد یا کسی کی تضحیک کرنا نہیں تھا۔ آکاش کے مطابق: ‘یہ نوٹ مجھے حوصلہ دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ جو چیز مجھے کھیل کے دوران متحرک رکھتی ہے، میں اسے جاری رکھوں گا۔’ ان کا کہنا تھا کہ ہائی پریشر میچوں میں خود پر یقین رکھنے کے لیے وہ ایسے طریقے استعمال کرتے ہیں۔
آکاش سنگھ کون ہیں؟ ایک ابھرتے ہوئے فاسٹ بولر کا سفر
راجستھان کے علاقے بھرت پور سے تعلق رکھنے والے آکاش سنگھ بائیں ہاتھ کے درمیانے درجے کے فاسٹ بولر ہیں۔ وہ پہلی بار 2020 کے انڈر 19 ورلڈ کپ کے دوران منظر عام پر آئے جہاں ان کی بولنگ نے سب کو متاثر کیا۔ انہوں نے 2021 میں راجستھان رائلز کی جانب سے اپنا آئی پی ایل ڈیبیو کیا تھا۔
بعد ازاں وہ 2023 میں چنئی سپر کنگز کا حصہ بنے اور پھر 2025 کے میگا آکشن میں لکھنؤ سپر جائنٹس نے انہیں 30 لاکھ روپے میں خریدا۔ رشبھ پنت کی قیادت میں کھیلنے والی اس ٹیم نے آئی پی ایل 2026 کے لیے بھی انہیں برقرار رکھا۔ اب تک کے کیریئر میں آکاش نے 11 آئی پی ایل میچوں میں 12 وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ان کا ریکارڈ متاثر کن ہے۔
خلاصہ: کیا یہ جشن کرکٹ کے وقار کے خلاف ہے؟
آکاش سنگھ کے اس عمل نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا آئی پی ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کو اس طرح کی شخصی تشہیر کی اجازت ہونی چاہیے؟ اگرچہ کچھ لوگ اسے جدید کرکٹ کا حصہ اور تفریح سمجھتے ہیں، لیکن ڈیل اسٹین اور رائیڈو جیسے سینئر کھلاڑی اسے کھیل کی روایات کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا آئی پی ایل انتظامیہ اس حوالے سے کوئی نیا ضابطہ اخلاق متعارف کرواتی ہے یا کھلاڑیوں کو اسی طرح کے جشن منانے کی آزادی دی جاتی ہے۔
