کیا محسن نقوی آئی پی ایل فائنل کے لیے بھارت جائیں گے؟ حقیقت سامنے آ گئی
آئی پی ایل فائنل اور محسن نقوی کا دورہ بھارت: حقائق کیا ہیں؟
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کے بھارت کے دورے اور احمد آباد میں ہونے والے آئی پی ایل 2026 کے فائنل میں شرکت کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں سے میڈیا میں کافی چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔ تاہم، اب تمام تر قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ محسن نقوی اس دورے پر نہیں جائیں گے۔
آئی سی سی بورڈ اجلاس اور احمد آباد کا انتخاب
آئی سی سی کا یہ اہم اجلاس 30 اور 31 مئی کو احمد آباد میں منعقد ہونا ہے۔ اسی دوران 31 مئی کو نریندر مودی اسٹیڈیم میں آئی پی ایل 2026 کا فائنل بھی کھیلا جائے گا۔ ماضی میں ایسی اطلاعات تھیں کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام اراکین فائنل میچ بھی دیکھیں گے، جس کی وجہ سے محسن نقوی کے دورے کی خبروں نے زور پکڑا تھا۔ تاہم، پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، بی سی سی آئی کی جانب سے محسن نقوی کو آئی پی ایل فائنل کے لیے کوئی ذاتی دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا تھا۔ اگر وہ بھارت جاتے بھی، تو ان کا مقصد صرف آئی سی سی کا آفیشل اجلاس ہوتا، نہ کہ کرکٹ میچ دیکھنا۔
ورچوئل شرکت کا امکان
رپورٹس کے مطابق، محسن نقوی کے علاوہ دو دیگر آئی سی سی بورڈ ممبران بھی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ آئی سی سی کا یہ معمول کا طریقہ کار ہے کہ اگر کوئی رکن ذاتی طور پر موجود نہ ہو سکے تو اسے ورچوئل شرکت کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس لیے محسن نقوی کا اجلاس میں آن لائن شامل ہونا کسی غیر معمولی بات کے بجائے آئی سی سی کے معیاری ضوابط کے عین مطابق ہوگا۔
اجلاس کے مقام کی تبدیلی کی وجہ
یہ اجلاس اصل میں مارچ کے آخر میں دوحہ، قطر میں ہونا تھا۔ لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتحال کے پیش نظر آئی سی سی کو نہ صرف یہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا بلکہ اس کا مقام بھی تبدیل کرنا پڑا۔ آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل کے مطابق، جب اجلاس احمد آباد منتقل ہوا، تو بی سی ایل نے اسی مناسبت سے فائنل کا مقام بھی بنگلورو سے احمد آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس کا مرکزی ایجنڈا
آئی سی سی کا یہ اجلاس گورننس کیلنڈر کا حصہ ہے جس میں بورڈ ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹوز اور دیگر اہم کمیٹی ممبران شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کا سب سے اہم موضوع براڈکاسٹنگ حقوق ہیں، کیونکہ آئی سی سی کا جیو اسٹار کے ساتھ موجودہ معاہدہ 2027 میں ختم ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ کرکٹ کے مستقبل اور عالمی سطح پر کھیل کے فروغ کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان اور بھارت کرکٹ تعلقات کا پس منظر
محسن نقوی نے حال ہی میں پی سی بی، بی سی سی آئی اور آئی سی سی کے درمیان تین فریقی معاہدے میں اہم کردار ادا کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی اور شرکت کے معاملات کو حل کیا جا سکے۔ گزشتہ سالوں میں یہ طے پایا تھا کہ بھارت اور پاکستان آئی سی سی ٹورنامنٹس کے لیے ایک دوسرے کے ممالک کا سفر نہیں کریں گے، جس کی مثال ہم نے چیمپئنز ٹرافی اور دیگر ایونٹس میں دیکھی۔
مجموعی طور پر، محسن نقوی کا بھارت نہ جانے کا فیصلہ موجودہ سفارتی اور کرکٹ کے تناظر میں ایک متوازن اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس میں ان کی شرکت ورچوئل طریقے سے ہی متوقع ہے، جس سے بورڈ کے اہم معاملات بلا تعطل جاری رہ سکیں گے۔
