فیصل اقبال کا بابر اعظم اور پاکستانی بیٹرز پر سخت تنقید، ٹیم کی کارکردگی پر سوالات
پاکستان کرکٹ کا بحران: کیا بابر اعظم اور سینئر کھلاڑی ناکام ہو چکے ہیں؟
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم اور بابر اعظم ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہیں۔ سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے جا رہے دوسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ میں پاکستانی بیٹنگ لائن کی مایوس کن کارکردگی نے شائقین کو شدید مایوس کیا ہے۔ شان مسعود کی قیادت میں پاکستان پہلے ہی ڈھاکا میں ہونے والا پہلا ٹیسٹ ہار چکا ہے اور اب سیریز بچانے کے لیے اسے سخت جدوجہد کا سامنا ہے۔
سلہٹ ٹیسٹ: ایک اور ناکامی کی کہانی
میچ کا آغاز شان مسعود کے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کے فیصلے سے ہوا۔ پاکستانی پیسرز نے ابتدا میں بنگلہ دیشی ٹیم کو شدید دباؤ میں رکھا، اور میزبان ٹیم کے 6 کھلاڑی محض 117 رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے۔ تاہم، لٹن داس کی 126 رنز کی شاندار اننگز نے بنگلہ دیش کو 278 رنز کے مضبوط مجموعے تک پہنچا دیا۔ خرم شہزاد اور محمد عباس نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے بالترتیب 4 اور 3 وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں پاکستانی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ اگرچہ بابر اعظم نے 68 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلنے کی کوشش کی، لیکن انہیں دوسرے اینڈ سے کسی بھی بیٹر کا ساتھ نہیں ملا۔ پوری پاکستانی ٹیم محض 232 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو 46 رنز کی اہم برتری حاصل ہوئی۔
فیصل اقبال کا شدید ردعمل
پاکستان کی اس ناقص کارکردگی پر سابق ٹیسٹ کرکٹر فیصل اقبال نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کو آڑے ہاتھوں لیا بلکہ بابر اعظم کی قابلیت اور ٹیمپرامنٹ پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ فیصل اقبال کا ماننا ہے کہ سینئر کھلاڑیوں کے پاس تجربہ ہونے کے باوجود وہ دباؤ میں اپنی وکٹیں گنوا دیتے ہیں، جو کہ ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
فیصل اقبال نے اپنے بیان میں کہا: “ہماری ٹیسٹ کرکٹ کہاں جا رہی ہے؟ سینئرز اتنی کرکٹ کھیل چکے ہیں، لیکن دباؤ کے حالات میں بالکل ناکام ہیں۔ بدقسمتی سے بابر کا جدوجہد کا دور بہت طویل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے پاس کوئی ٹیمپرامنٹ نہیں ہے اور وہ مشکل حالات میں ٹیم کو بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔”
مستقبل کے خدشات
یہ تنقید صرف ایک میچ تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل ناکامیوں کی عکاس ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ٹیم کو ایک مستحکم لیڈرشپ اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے رنز کی ضرورت ہے، بابر اعظم کا فارم میں نہ ہونا اور دیگر سینئرز کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ٹیم کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش اپنی پوزیشن مضبوط کر چکا ہے۔ تیسرے دن کے کھیل کے آغاز پر میزبان ٹیم کو 156 رنز کی برتری حاصل ہے، اور پاکستان کے لیے میچ میں واپسی اب ایک پہاڑ سر کرنے کے مترادف ہے۔ محمد الحسن جوئے اور نجم الحسین شانتو کی بلے بازی نے پاکستان کے بولرز کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
نتیجہ
پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ سخت فیصلے لیں اور کھلاڑیوں کی ذہنی صلاحیتوں پر کام کریں۔ اگر ٹیم کو عالمی معیار پر واپس آنا ہے تو انہیں نہ صرف تکنیکی بلکہ ذہنی طور پر بھی خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کیا پاکستان سلہٹ میں معجزاتی طور پر واپسی کر پائے گا؟ اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔
