ایشان کشن کا کیریئر: ممبئی انڈینز چھوڑنے کا فیصلہ درست ثابت ہوا، امباتی رائیڈو
ایشان کشن کا شاندار سفر: ممبئی انڈینز سے چھٹکارا اور نئی کامیابی
آئی پی ایل کی تاریخ میں کھلاڑیوں کی ٹیمیں بدلنا کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن کچھ فیصلے کھلاڑیوں کی قسمت بدل دیتے ہیں۔ حال ہی میں، سابقہ سی ایس کے اسٹار اور ممبئی انڈینز کے سابق کھلاڑی امباتی رائیڈو نے ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ ایشان کشن کا ممبئی انڈینز چھوڑ کر سن رائزرز حیدرآباد (SRH) میں جانا ان کے کرکٹ کیریئر کے لیے کتنا سودمند ثابت ہوا۔
ممبئی انڈینز کا بوجھ اور کشن کی جدوجہد
ایشان کشن نے ممبئی انڈینز کے ساتھ سات سال گزارے۔ رائیڈو کے مطابق، ممبئی انڈینز جیسے بڑے فرنچائز میں جہاں پہلے سے ہی بے شمار سپر اسٹارز موجود ہوں، وہاں اپنی جگہ بنانا اور خود کو ثابت کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ ایک نوجوان کھلاڑی کے لیے ان بڑے ستاروں کے ساتھ مقابلہ کرنا ذہنی اور تکنیکی طور پر بہت مشکل ہوتا ہے۔
سن رائزرز حیدرآباد کے ساتھ نئی شروعات
سن رائزرز حیدرآباد میں شمولیت کے بعد ایشان کشن نے اپنی کارکردگی میں حیران کن تبدیلی دکھائی ہے۔ 2026 کے آئی پی ایل سیزن میں کشن نے 550 سے زائد رنز بنا کر یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ایک جارحانہ بلے باز ہیں بلکہ ذمہ داری سے کھیلنا بھی جانتے ہیں۔ 14 میچوں میں 569 رنز بنانا ان کی مستقل مزاجی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آئی پی ایل میں ‘سوئچ’ کرنے کا فن
امباتی رائیڈو نے ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ جدید ٹی 20 کرکٹ میں بیٹنگ کے دو انداز ہوتے ہیں: ایک جارحانہ اور دوسرا سمجھداری سے کھیلنے والا۔ رائیڈو کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوان کھلاڑی یہ نہیں جانتے کہ کب ‘سوئچ آن’ کرنا ہے اور کب تھوڑا صبر سے کام لینا ہے۔ ایشان کشن نے یہ سبق مشکل حالات سے سیکھا اور اب وہ میچ کی صورتحال کے مطابق اپنے کھیل کو ڈھالنے میں ماہر ہو چکے ہیں۔
گھریلو کرکٹ سے بین الاقوامی سطح تک
کشن کا یہ عروج اچانک نہیں آیا۔ سید مشتاق علی ٹرافی میں جھارکھنڈ کی قیادت کرتے ہوئے ٹائٹل جیتنا، پھر ہندوستانی ٹیم میں واپسی اور ورلڈ کپ میں 300 سے زائد رنز بنا کر ٹیم کو ٹائٹل جتوانا، یہ تمام سنگ میل ان کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ کپتانی کے فرائض اور بیٹنگ کی ذمہ داریوں نے انہیں ایک مکمل کھلاڑی بنا دیا ہے۔
نتیجہ: ایک درست انتخاب
امباتی رائیڈو کا یہ تجزیہ بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ ممبئی انڈینز میں رہتے ہوئے کشن شاید ان ستاروں کے ہجوم میں کہیں کھو جاتے، لیکن سن رائزرز حیدرآباد کے مینجمنٹ کے صبر اور کشن کی محنت نے انہیں ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اب جبکہ وہ اپنی ٹیم کو پلے آف تک پہنچا چکے ہیں، کرکٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کشن کا اصل عروج تو ابھی شروع ہوا ہے۔
یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ کبھی کبھی ماحول کی تبدیلی ہی کسی کھلاڑی کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو باہر لانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ ایشان کشن اب ایک ایسے بیٹر بن چکے ہیں جو کسی بھی وقت کھیل کا نقشہ بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
