امباتی رایڈو کا بڑا دعویٰ: ناکام ایل ایس جی اب بھی آئی پی ایل جیت سکتی ہے
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے مایوس کن رہا ہے، کیونکہ یہ ٹیم پلے آف کی دوڑ سے قبل ہی باہر ہو چکی ہے۔ تاہم، سابق بھارتی بلے باز امباتی رایڈو نے ایک غیر معمولی دعویٰ کیا ہے جس نے کرکٹ حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ رایڈو کا کہنا ہے کہ اگر LSG آج بھی پلے آف میں شامل ہو تو وہ موجودہ فارم کی بنیاد پر آئی پی ایل کا ٹائٹل جیت سکتی ہے۔ یہ بیان ایک ایسی ٹیم کے بارے میں ہے جو اس سیزن میں مسلسل تیسری بار گروپ اسٹیج سے ہی باہر ہوئی ہے۔
ایک مایوس کن سیزن کا سفر
لکھنؤ سپر جائنٹس نے آئی پی ایل 2026 کا آغاز امید افزا انداز میں کیا تھا، جہاں انہوں نے اپنے پہلے تین میچوں میں سے دو میں کامیابی حاصل کی۔ ابتدائی کامیابی نے ٹیم کے مداحوں میں جوش پیدا کیا، لیکن یہ امید جلد ہی مایوسی میں بدل گئی۔ ایک مضبوط آغاز کے بعد، LSG کی کارکردگی میں تیزی سے گراوٹ آئی۔ ٹیم نے درمیان کے سیزن میں لگاتار چھ میچ ہارے، جس کے نتیجے میں وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بن گئی۔ یہ ان کے لیے مسلسل تیسرا سیزن ہے جب وہ پلے آف میں جگہ بنانے میں ناکام رہے، جو کہ ایک مضبوط اسکواڈ کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر، سپر جائنٹس اس وقت 12 میچوں میں 4 جیت کے ساتھ دسویں پوزیشن پر موجود ہیں۔
بولنگ میں چمک اور بیٹنگ میں جدوجہد
LSG کی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کی بولنگ یونٹ نے قابل تعریف کارکردگی دکھائی ہے۔ خاص طور پر پرنس یادو اور محسن خان جیسے بولرز نے اپنی رفتار اور درستگی سے حریف بلے بازوں کو پریشان کیا۔ ان کی بولنگ نے کئی میچوں میں ٹیم کو مشکلات سے نکالا یا کم از کم مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں رکھا۔ اس کے برعکس، ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ، مچل مارش کے علاوہ، کافی جدوجہد کرتی نظر آئی۔ ٹیم نے بلے بازی کی ترتیب اور بلے بازوں کے انتخاب میں بار بار تبدیلیاں کیں، جس سے استحکام کی کمی واضح طور پر نظر آئی۔ یہ تبدیلیاں اکثر ٹیم کے لیے مثبت نتائج لانے میں ناکام رہیں اور بلے بازوں کو اپنی اصل صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔
امباتی رایڈو کا حیران کن دعویٰ اور تجزیہ
ای ایس پی این کرک انفو پر بات کرتے ہوئے، امباتی رایڈو نے LSG کی موجودہ فارم کو لیگ کی تمام ٹیموں میں سے بہترین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “مجھے لگتا ہے کہ اگر انہیں پلے آف میں شامل کیا جائے تو وہ آئی پی ایل جیت جائیں گے۔ وہ اس وقت اتنے اچھے لگ رہے ہیں۔” رایڈو نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیم نے حال ہی میں زبردست فارم حاصل کی ہے۔ انہوں نے آسٹریلوی بلے باز جوش انگلش کو بیٹنگ آرڈر کو مستحکم کرنے کا کریڈٹ دیا۔ انگلش ٹورنامنٹ کے زیادہ تر حصے کے لیے دستیاب نہیں تھے، لیکن ان کی آمد نے فوری طور پر ٹیم پر مثبت اثر ڈالا۔ رایڈو کے مطابق، “انگلش کا گیارہ میں آنا اسے بہت بہتر بنا دیا ہے۔ وہ بہت مستحکم نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ارد گرد پورے بیٹنگ آرڈر کو مستحکم کیا ہے۔ میرے خیال میں پوران بھی تھوڑی سی فارم میں آ رہے ہیں، لیکن وہ بہت خطرناک لگ رہے ہیں۔”
جوش انگلش کا اثر اور ٹیم کی تبدیلی
جوش انگلش کی آمد نے LSG کی بیٹنگ میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ وہ ٹیم کے لیے ایک اینکر کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے ارد گرد دیگر بلے بازوں کو آزادی سے کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک اہم کھلاڑی کی موجودگی کس طرح پوری ٹیم کے مورال اور کارکردگی کو بدل سکتی ہے۔ رایڈو کے تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ LSG نے حال ہی میں اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے اور ایک مضبوط حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ ٹیم کی موجودہ کارکردگی نے کئی ناقدین کو بھی حیران کیا ہے جو سیزن کے اوائل میں انہیں بہت کمزور سمجھ رہے تھے۔
راجستھان رائلز کے خلاف آنے والا مقابلہ
رایڈو نے راجستھان رائلز کے خلاف منگل کو جے پور میں ہونے والے سپر جائنٹس کے مقابلے کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ راجستھان رائلز کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے بقول، “راجستھان رائلز کے لیے مشکل ہوگی کیونکہ LSG ہر میچ میں 200-220 رنز بنانے کے لیے تیار نظر آ رہی ہے۔ ان کے پاس جو بولنگ ہے اس کے ساتھ، وہ اسے بچانے یا حریف کو کم اسکور پر روکنے کے قابل نظر آتے ہیں۔” رایڈو نے مزید کہا، “اگر لکھنؤ اپنی صلاحیت کے مطابق کھیلے تو وہ اس وقت راجستھان رائلز سے کہیں آگے ہیں۔ یہ بدقسمتی ہے کہ وہ سیزن کے آغاز میں ایسا نہیں کر سکے۔ لہذا، میرے خیال میں لکھنؤ میرے لیے فیورٹ ہے۔” یہ بیان LSG کی حالیہ کارکردگی میں اعتماد کی عکاسی کرتا ہے اور ٹیم کے اندر موجود مثبت توانائی کو ظاہر کرتا ہے۔
پارٹی پوپر کا کردار اور اہم مقابلے
اگرچہ LSG اب پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے، لیکن ان کے پاس اپنے بقیہ دونوں میچوں میں “پارٹی پوپر” کا کردار ادا کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ وہ منگل کو جے پور میں راجستھان رائلز کا سامنا کریں گے اور پھر 23 مئی کو اپنے ہوم گراؤنڈ لکھنؤ میں پنجاب کنگز کے خلاف کھیلیں گے۔ یہ دونوں میچ راجستھان رائلز اور پنجاب کنگز کے لیے لازمی طور پر جیتنے والے ہیں، کیونکہ انہیں پلے آف میں جگہ بنانے کے لیے ان میں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔ LSG کی حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے، یہ میچز انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔ LSG کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ مضبوط ٹیموں کو ہرا کر سیزن کا اختتام ایک مثبت نوٹ پر کریں اور آئندہ سیزن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں۔ ان میچوں میں اچھی کارکردگی ٹیم کے مداحوں میں بھی اعتماد بحال کرے گی اور کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرے گی۔
