آئی پی ایل 2026: بھونیشور کمار کی فارم نے سلیکٹرز کے لیے بڑے سوالات کھڑے کر دیے
بھونیشور کمار: تجربہ اور مہارت کا ایک شاندار امتزاج
بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں سوئنگ باؤلنگ کے ماہرین کی جب بھی بات ہو گی، بھونیشور کمار کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔ ایک طویل عرصے تک بھارتی فاسٹ باؤلنگ حملے کی قیادت کرنے والے اس باؤلر کے بارے میں چند سال قبل یہ رائے قائم کر لی گئی تھی کہ شاید اب ان کے کیریئر کا سورج غروب ہونے والا ہے۔ انجری کے مسائل، رفتار میں کمی اور نوجوان فاسٹ باؤلرز کی آمد نے انہیں بتدریج منظر نامے سے دور کر دیا تھا۔ جدید کرکٹ میں جب کوئی کھلاڑی 33 یا 34 سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو شائقین اور ماہرین فوری طور پر ‘متبادل’ اور ‘مستقبل کی منصوبہ بندی’ کی باتیں شروع کر دیتے ہیں۔
لیکن بھونیشور کمار نے ان تمام شکوک و شبہات کا جواب خاموشی سے اپنی کارکردگی کے ذریعے دیا ہے۔ 36 سال کی عمر میں اس تجربہ کار پیسر نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اگر آپ کے پاس مہارت ہے تو آپ کیریئر کو طویل دے سکتے ہیں۔ جبکہ بہت سے باؤلرز مکمل طور پر رفتار پر انحصار کرتے ہیں، ‘بھوی’ اپنی ذہانت، کنٹرول، گیند کی حرکت اور وسیع تجربے کا استعمال کرتے ہوئے میدانوں پر راج کر رہے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی واپسی کو انتہائی خاص اور متاثر کن بناتی ہے۔
Bhuvneshwar Kumar. (Credits: X.com)
آئی پی ایل 2026 میں ریکارڈ ساز کارکردگی
موجودہ آئی پی ایل سیزن میں بھونیشور کمار کی کارکردگی کسی معجزے سے کم نہیں رہی۔ انہوں نے اب تک اس سیزن میں 24 وکٹیں حاصل کی ہیں، جو کسی بھی باؤلر کی جانب سے اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں بہت سے نوجوان اور تیز رفتار باؤلرز کے مقابلے میں زیادہ متحرک اور خطرناک نظر آئے ہیں۔ آج کل کی بیٹنگ فرینڈلی پچوں پر جہاں باؤلرز پر مسلسل حملے کیے جاتے ہیں اور رنز روکنا مشکل ہو جاتا ہے، وہاں بھونیشور کمار نے اپنا پرسکون مزاج برقرار رکھا اور موثر ثابت ہوئے۔
ان کی باؤلنگ کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی ہے کہ انہوں نے پاور پلے کے ساتھ ساتھ ڈیتھ اوورز میں بھی اپنی افادیت ثابت کی ہے۔ جہاں نوجوان باؤلرز دباؤ میں آکر اپنی لائن اور لینتھ بھول جاتے ہیں، وہاں بھوی نے اپنی نپی تلی باؤلنگ سے بلے بازوں کو بے بس کیے رکھا۔
آر سی بی بمقابلہ پنجاب کنگز: ایک کلیدی کارکردگی
ایک اہم مقابلے میں رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) نے پنجاب کنگز (PBKS) کو کامیابی سے روک کر 23 رنز سے فتح حاصل کی اور پلے آف کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ اس میچ میں بھونیشور کمار نے کلیدی کردار ادا کیا، جنہوں نے اپنے 4 اوورز کے کوٹے میں صرف 38 رنز دے کر 2 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بھونیشور کا کہنا تھا، ‘دیکھیں، میں اچھی تال (rhythm) میں تھا، یقیناً پچھلے میچوں میں وکٹیں لینے سے ہمیشہ آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ان مقامات میں سے ایک ہے جہاں شروع میں گیند کچھ نہ کچھ کرتی ہے اور اگر آپ اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تو کسی بھی ٹیم کے لیے اس کا تعاقب کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔’
ان کا مزید کہنا تھا کہ چاہے آپ پہلی اننگز میں باؤلنگ کر رہے ہوں، اگر شروع میں وکٹیں مل جائیں تو مخالف ٹیم کے لیے بڑا اسکور بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ بیان ان کی کھیل کی گہری سمجھ بوجھ کی عکاسی کرتا ہے۔
یارکرز کی مہارت اور سارا سال کی محنت
جب بھونیشور کمار سے ان کے یارکرز کی پریکٹس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک انتہائی پیشہ ورانہ جواب دیا۔ انہوں نے کہا، ‘میرے خیال میں یہ میچ سے ٹھیک پہلے کرنے والی بات نہیں ہے، بلکہ میں سارا سال جو کچھ کرتا ہوں اس سے فرق پڑتا ہے۔ جب آپ آئی پی ایل سیٹ اپ میں آتے ہیں، تو آپ عالمی سطح کے بلے بازوں کو باؤلنگ کرتے ہیں اور جب آپ انہیں آؤٹ کرتے ہیں، تو اس سے آپ کو یہ اعتماد ملتا ہے کہ آپ وہاں بھی گیند پھینک سکتے ہیں۔’
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کامیابی کا راز صرف ٹورنامنٹ کے دوران کی جانے والی مشق میں نہیں ہے، بلکہ وہ نظم و ضبط ہے جو ایک کھلاڑی پورے سال برقرار رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میچ سے عین قبل پریکٹس شروع کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ مستقل مزاجی ہی اصل کلید ہے۔
سلیکٹرز کے لیے مشکل فیصلہ
بھونیشور کمار کی اس غیر معمولی فارم نے بھارتی سلیکٹرز کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف ٹیم انڈیا نوجوان خون کو شامل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے، تو دوسری طرف بھونیشور کمار جیسے تجربہ کار کھلاڑی کی کارکردگی کو نظر انداز کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ کیا تجربے کو جوانی پر فوقیت دی جائے گی؟ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت کرکٹ کے حلقوں میں گردش کر رہا ہے۔
اگر بھونیشور اسی طرح اپنی فارم برقرار رکھتے ہیں، تو وہ دن دور نہیں جب وہ ایک بار پھر نیلی جرسی میں بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان کی کہانی ہر اس کھلاڑی کے لیے مشعل راہ ہے جو عمر کے کسی بھی حصے میں ہمت ہارنے لگتا ہے۔ بھوی نے ثابت کر دیا ہے کہ ‘کلاس’ مستقل ہوتی ہے اور محنت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
