Dickson helps Glamorgan past old side Somerset on night of floodlight drama | گلیمورگن کی سنسنی خیز فتح
ٹانٹن میں سنسنی خیز مقابلے کا احوال
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں کچھ میچز ایسے ہوتے ہیں جو شائقین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔ ٹانٹن کے کوپر ایسوسی ایٹس گراؤنڈ میں کھیلا گیا یہ میچ بھی ایک ایسا ہی یادگار مقابلہ تھا جہاں گلیمورگن نے دفاعی چیمپئن سومرسیٹ کے خلاف آخری گیند پر سنسنی خیز فتح حاصل کی۔ اس میچ میں نہ صرف دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملا، بلکہ فلڈ لائٹس کی خرابی نے کھیل میں ایک انوکھا اور سسپنس سے بھرپور موڑ پیدا کر دیا۔
سومرسیٹ کی جارحانہ بیٹنگ اور مڈل آرڈر کا شاندار کھیل
گلیمورگن نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ شروع میں سومرسیٹ کے اوپنرز کی جارحانہ بیٹنگ کو دیکھ کر کافی مشکل محسوس ہو رہا تھا۔ سومرسیٹ کے اوپنرز ٹام بینٹن اور جوش تھامس نے اپنی ٹیم کو ایک طوفانی آغاز فراہم کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے محض 5 اوورز سے بھی کم وقت میں 50 رنز کی شراکت داری قائم کر کے گلیمورگن کے باؤلرز پر دباؤ بڑھا دیا۔ خاص طور پر ٹام بینٹن انتہائی جارحانہ موڈ میں نظر آئے، انہوں نے اپنی 39 رنز کی تیز رفتار اننگز میں پانچ شاندار چوکے اور دو فلک شگاف چھکے لگائے۔ تاہم، گلیمورگن کے سابق کھلاڑی نیڈ لیونارڈ نے بینٹن کو ڈیپ اسکوائر لیگ پر کیچ آؤٹ کروا کر اس خطرناک شراکت کا خاتمہ کیا۔
اگرچہ نیڈ لیونارڈ نے وکٹ حاصل کی، لیکن وہ کافی مہنگے ثابت ہوئے اور انہوں نے اپنے 3 اوورز کے اسپیل میں 50 رنز دیے۔ دوسری طرف، گلیمورگن کے دیگر باؤلرز نے ہمت نہیں ہاری اور میچ میں واپسی کی کوششیں جاری رکھیں۔ پاور پلے کے اختتام پر جوش تھامس 18 رنز بنا کر بین کیلاوے کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے فوراً بعد سومرسیٹ کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور اس کا اسکور 83 رنز پر 4 وکٹیں ہو گیا۔ جارڈن ہرمن، کرن کارلسن کے ایک بہترین تھرو پر رن آؤٹ ہوئے، جبکہ تھامس ریو کو ڈین ڈوتھوائٹ نے صرف 2 رنز پر بولڈ کر دیا۔
لیوس گریگوری اور ٹام ایبل کی شاندار شراکت داری
جب سومرسیٹ کی ٹیم مشکلات کا شکار تھی، تو کپتان لیوس گریگوری اور ٹام ایبل نے اننگز کو سنبھالا۔ دونوں تجربہ کار بلے بازوں نے پانچویں وکٹ کے لیے 90 رنز کی انتہائی اہم اور تیز رفتار شراکت قائم کر کے میچ کا رخ بدل دیا۔ گریگوری نے کپتانی اننگز کھیلتے ہوئے محض 24 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی، جس میں چار شاندار چھکے شامل تھے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 28 گیندوں پر 54 رنز کی اننگز کھیلی۔ اس شراکت داری کے دوران انہوں نے نیڈ لیونارڈ کے پھینکے گئے 15ویں اوور میں 24 رنز بٹورے۔
دوسری جانب ٹام ایبل نے 28 گیندوں پر 41 رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ایبل کو ڈین ڈوتھوائٹ نے ڈیپ اسکوائر لیگ پر کیچ آؤٹ کروایا۔ ان کے جانے کے بعد گریگوری بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹک سکے اور وکٹ کیپر ول سمیل کی ہوشیاری کے باعث سنگل لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔ آخر میں ڈینیل سیمز نے 12 گیندوں پر 24 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیل کر سومرسیٹ کا مجموعی اسکور 6 وکٹوں کے نقصان پر 202 رنز تک پہنچا دیا، جو کہ ایک انتہائی مسابقتی اسکور تھا۔ گلیمورگن کی جانب سے ڈین ڈوتھوائٹ سب سے کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے 4 اوورز میں 35 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔
گلیمورگن کا تعاقب اور فلڈ لائٹس کا خلل
203 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں گلیمورگن کے کپتان کرن کارلسن نے انتہائی جارحانہ انداز اختیار کیا۔ انہوں نے پہلے ہی اوور میں کریگ اوورٹن کو ایک شاندار چھکا لگایا اور پھر جوش شا کے دوسرے اوور میں بھی ایک اور چھکا جڑ دیا۔ گلیمورگن کا اسکور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اور وہ 29 رنز پر پہنچ چکے تھے جب اچانک اسٹیڈیم کی فلڈ لائٹس بند ہو گئیں۔ اس غیر متوقع خلل کی وجہ سے میچ کو کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔ امپائرز نے دونوں ٹیموں کے کپتانوں سے مشاورت کی اور طویل بحث کے بعد کھیل کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، حالانکہ ایک فلڈ لائٹ اب بھی بند تھی۔
کھیل شروع ہوتے ہی کارلسن کو 29 رنز کے انفرادی اسکور پر ایک موقع ملا جب ڈینیل سیمز کی پہلی گیند پر مڈ وکٹ پر ان کا کیچ چھوٹ گیا۔ لیکن وہ اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور اگلی ہی گیند پر لانگ آف پر کیچ دے بیٹھے۔ اس کے بعد گلیمورگن کی وکٹیں تیزی سے گریں۔ بین کیلاوے جلد ہی جیک بال کا شکار بنے، جبکہ ول سمیل 22 رنز بنا کر کریگ اوورٹن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اوورٹن نے پاور پلے کا اختتام ایک وکٹ میڈن اوور کے ساتھ کیا، جس سے گلیمورگن دباؤ میں آگئی اور ان کا اسکور 55 رنز پر 3 وکٹیں ہو گیا۔
شان ڈکسن کی جرات مندانہ بیٹنگ اور میچ کا پانسہ پلٹنا
اس نازک صورتحال میں شان ڈکسن نے اپنی سابقہ ٹیم سومرسیٹ کے خلاف ایک ناقابل یقین اور جرات مندانہ اننگز کھیلی۔ ڈکسن کو اننگز کے آغاز میں 14 رنز پر ایک لائف لائن ملی جب تھرڈ مین پر جیک بال نے لیوس گریگوری کی گیند پر ان کا کیچ چھوڑ دیا۔ یہ کیچ چھوڑنا سومرسیٹ کے لیے انتہائی مہنگا ثابت ہوا۔ ڈکسن نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور گراؤنڈ کے چاروں طرف شاندار شاٹس کھیلے۔ انہوں نے پہلے جوش شا اور پھر لیوس گولڈز ورتھی کی گیندوں پر فلک شگاف چھکے لگائے۔ اس کے بعد انہوں نے سیمز کی گیند پر ایک اور چھکا لگا کر محض 33 گیندوں پر اپنی شاندار نصف سنچری مکمل کی۔
ڈینیل سیمز نے بالآخر ایک دھیمی گیند کے ذریعے ڈکسن کی اننگز کا خاتمہ کیا، جنہوں نے گیند کو سیدھا باؤلر کے ہاتھ میں کھیل دیا۔ ڈکسن 36 گیندوں پر 63 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اور اس وقت گلیمورگن کا اسکور 15 اوورز کے بعد 4 وکٹوں پر 144 رنز تھا۔ اب ساری امیدیں نوجوان آسا ٹرائب پر وابستہ تھیں جو 26 رنز پر کھیل رہے تھے۔ ٹرائب نے جارحانہ انداز اپنایا اور جیک بال کے اوور میں دو چوکے اور ایک چھکا لگا کر رن ریٹ کو قابو میں رکھا۔ تاہم، وہ جوش شا کی ایک فل ٹاس گیند پر شارٹ فائن لیگ پر کیچ آؤٹ ہو گئے، انہوں نے 48 رنز کی انتہائی قیمتی اننگز کھیلی۔
آخری اوور کا سنسنی خیز ڈراما اور جمی نیشم کا وننگ شاٹ
اب گلیمورگن کو جیت کے لیے آخری اوور میں 16 رنز درکار تھے اور گیند جیک بال کے ہاتھ میں تھی۔ پہلی گیند پر سنگل لینے کے بعد، ڈین ڈوتھوائٹ نے دوسری گیند پر ایک انتہائی شاندار اور لمبا چھکا لگایا۔ لیکن اسی دوران اسٹیڈیم کی لائٹس ایک بار پھر چلی گئیں، جس سے میچ میں سسپنس اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ تماشائیوں کی سانسیں تھم گئیں اور دونوں ٹیموں کے اعصاب کا امتحان شروع ہو گیا۔
کھیل دوبارہ شروع ہونے پر، ڈوتھوائٹ نے اگلی گیند پر ایک بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش کی لیکن وہ لانگ آن پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس وکٹ نے میچ کو مزید دلچسپ بنا دیا کیونکہ اب گلیمورگن کو آخری گیند پر جیت کے لیے رنز درکار تھے اور نیوزی لینڈ کے مایہ ناز آل راؤنڈر جمی نیشم کریز پر موجود تھے۔ نیشم نے انتہائی پرسکون انداز میں کھیلتے ہوئے آخری گیند پر لیگ سائیڈ کی جانب ایک خوبصورت چوکا لگا کر گلیمورگن کو چار وکٹوں سے ایک یادگار اور تاریخی فتح دلا دی۔ اس جیت کے ساتھ ہی گلیمورگن نے دفاعی چیمپئن سومرسیٹ کے خلاف وائٹلٹی بلاسٹر میں اپنی ڈبل کامیابی مکمل کر لی۔
