Your Source for Cricket Stats & Insights
Explainer

Explained: Why Jofra Archer isn’t in England’s Test squad

Priya Patel · · 1 min read

انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم میں جوفرا آرچر کی عدم دستیابی کا معمہ

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پانچ ماہ کے طویل وقفے کے بعد لارڈز کے میدان میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے جا رہی ہے، لیکن اس اہم مقابلے میں جوفرا آرچر کا نہ ہونا شائقین کے لیے حیران کن ہے۔ Explained: Why Jofra Archer isn’t in England’s Test squad کے سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے ہمیں انگلش کرکٹ بورڈ (ECB) کی حکمت عملی اور جدید کرکٹ کے بدلتے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا۔

آرچر کو ‘دستیاب’ کیوں نہیں سمجھا گیا؟

جب انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا تو بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر روب کی نے واضح کیا کہ آرچر اس سیریز کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آرچر کو طویل عرصے تک کرکٹ کھیلنے کے بعد ریڈ بال کرکٹ کے لیے دوبارہ تیار کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ آرچر نے گزشتہ برس بھارت کے خلاف سیریز میں ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی تھی، لیکن ایشیز سیریز کے دوران انجری نے انہیں دوبارہ میدان سے دور کر دیا۔

آئی پی ایل اور ورک لوڈ کا چیلنج

آرچر کی آئی پی ایل میں شمولیت ان کی ٹیسٹ ٹیم سے دوری کی ایک بڑی وجہ بنی۔ آئی پی ایل کے دوران انہوں نے راجستھان رائلز کے لیے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 25 وکٹیں حاصل کیں، لیکن وہاں ان کا کام صرف چار اوورز تک محدود تھا۔ راجستھان رائلز کے ہیڈ کوچ کمار سنگاکارا کے مطابق، چار اوورز کے اسپیل سے ٹیسٹ میچ کے لیے درکار بولنگ لوڈ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے، جس کے لیے آرچر کو وقت کی ضرورت ہے۔

کیا ای سی بی آرچر کو آئی پی ایل کھیلنے سے روک سکتا تھا؟

اصولی طور پر، ای سی بی ایسا کر سکتا تھا لیکن اس کے نتیجے میں ایک بڑا خطرہ یہ بھی تھا کہ انگلش کھلاڑی بورڈ سے دور ہو جاتے۔ بی سی سی آئی اور ای سی بی کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے تحت کھلاڑیوں کو این او سی (NOC) کا حصول آسان بنایا گیا ہے۔ اگر آرچر آئی پی ایل میں نہ کھیلتے تو شاید وہ دوبارہ کبھی انگلینڈ کے لیے دستیاب نہ ہوتے، کیونکہ بورڈز کے درمیان کھلاڑیوں کی دستیابی پر تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

انتظامیہ اور کھلاڑیوں کا مؤقف

انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں پہلوؤں کو سمجھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ہم نے کھلاڑیوں پر بہت زیادہ سختی کی تو ممکن ہے کہ جوفرا آرچر جیسے ستارے انگلینڈ کے لیے کھیلنا ہی چھوڑ دیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آرچر کی انگلینڈ کے لیے کمٹمنٹ پر کوئی شک نہیں ہے۔

تنقید اور مستقبل کا لائحہ عمل

سابق انگلش اوپنر مارک بوچر اور مائیکل ایتھرٹن جیسے ماہرین نے اس صورتحال پر سخت تنقید کی ہے۔ ایتھرٹن کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کا آئی پی ایل کے سامنے جھک جانا بورڈ کی اپنی ٹیم پر کنٹرول کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

جہاں تک آرچر کی واپسی کا تعلق ہے، ہیڈ کوچ برینڈن میکلم کا کہنا ہے کہ ٹیم انتظامیہ آرچر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہیں ایک خاص پلان دیا گیا ہے جس پر وہ عمل کر رہے ہیں۔ اگر وہ پلان کے مطابق فٹنس حاصل کر لیتے ہیں تو دوسرے یا تیسرے ٹیسٹ میں ان کی شمولیت کا فیصلہ کیا جائے گا۔

آگے کیا ہوگا؟

جوفرا آرچر کے لیے آنے والا وقت انتہائی مصروف ہے۔ وہ جولائی میں بھارت کے خلاف وائٹ بال سیریز میں انگلینڈ کے اٹیک کی قیادت کریں گے اور اس کے بعد ‘دی ہنڈرڈ’ لیگ میں بھی ایکشن میں نظر آئیں گے۔ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے بھی ان کی دستیابی ان کی فٹنس اور ورک لوڈ مینجمنٹ پر منحصر ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ جدید کرکٹ میں فرنچائز لیگز اور انٹرنیشنل کرکٹ کے درمیان توازن برقرار رکھنا انگلینڈ اور آرچر دونوں کے لیے ایک کٹھن امتحان بنا ہوا ہے۔

Avatar photo
Priya Patel

Priya Patel writes detailed cricket statistics articles, focusing on batting averages, strike rates, player milestones, and IPL records.