ہاردک پانڈیا پر آئی پی ایل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد
ہاردک پانڈیا کی مشکلات میں مزید اضافہ: بی سی سی آئی نے عائد کیا بڑا جرمانہ
ممبئی انڈینز (MI) کے کپتان ہاردک پانڈیا کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے خلاف ایڈن گارڈنز، کولکتہ میں کھیلے گئے حالیہ سنسنی خیز میچ میں ممبئی انڈینز کو چار وکٹوں سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے فوراً بعد کپتان ہاردک پانڈیا کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے جہاں بی سی سی آئی (BCCI) نے میچ کے دوران ان کے جارحانہ رویے پر سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے ان پر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
یہ میچ ہاردک پانڈیا کے لیے انتہائی اہم تھا کیونکہ وہ کمر کی تکلیف (Back Issue) کی وجہ سے گزشتہ چار میچوں سے باہر رہنے کے بعد میدان میں واپسی کر رہے تھے۔ تاہم، بھارتی آل راؤنڈر کے لیے یہ واپسی خوش آئند ثابت نہ ہو سکی اور وہ کولکتہ کے خلاف رن چیز کے دوران آئی پی ایل کے ضابطہ اخلاق (IPL Code of Conduct) کی خلاف ورزی کر بیٹھے، جس کے نتیجے میں انہیں بھاری سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
واقعہ کیا تھا؟ ایڈن گارڈنز میں غصے کا اظہار
یہ پورا واقعہ دوسری اننگز کے دسویں اوور کی چوتھی گیند پر پیش آیا۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی بیٹنگ کے دوران ہاردک پانڈیا غصے میں نظر آ رہے تھے۔ جب وہ اپنی اگلی گیند کرانے کے لیے رن اپ کے آغاز کی طرف واپس جا رہے تھے، تو انہوں نے انتہائی غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے وکٹوں پر لگی بیلز (Bails) کو زور سے مار کر گرا دیا۔ ان کا یہ نامناسب عمل کیمرے میں قید ہو گیا اور میچ آفیشلز نے اسے کھیل کے قوانین کے خلاف پایا۔
آئی پی ایل گورننگ کونسل کا ایکشن اور سزا کی تفصیلات
آئی پی ایل کی گورننگ کونسل نے میچ کے بعد باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ ہاردک پانڈیا نے کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز کے لیے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.2 کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس خلاف ورزی پر ان کی میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کے تادیبی ریکارڈ میں ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ (Demerit Point) کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔
آئی پی ایل کی جانب سے جاری کردہ میڈیا ریلیز میں کہا گیا ہے: “ممبئی انڈینز کے کپتان ہاردک پانڈیا پر کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف میچ نمبر 65 کے دوران لیول 1 کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور انہیں ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دیا گیا ہے۔”
آئی پی ایل ضابطہ اخلاق کا آرٹیکل 2.2 خاص طور پر “میچ کے دوران کرکٹ کے آلات، لباس، گراؤنڈ کے سامان یا فکسچر اور فٹنگز کے غلط استعمال” سے متعلق ہے۔ ہاردک پانڈیا نے میچ ریفری راجیو سیٹھ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور مجوزہ سزا کو قبول کر لیا ہے، جس کی وجہ سے اس معاملے میں کسی باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
ہاردک پانڈیا کی فارم اور کپتانی پر دباؤ
آئی پی ایل 2026 کا یہ سیزن ممبئی انڈینز اور خاص طور پر ہاردک پانڈیا کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ روہت شرما کی جگہ ممبئی انڈینز کی کپتانی سنبھالنے کے بعد سے ہی ہاردک پانڈیا مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔ شائقین کرکٹ کی جانب سے گراؤنڈز میں ان کے خلاف نعرے بازی اور اب میدان میں ان کے اپنے جذبات پر قابو نہ پانے کی صلاحیت نے ان کے لیے مزید مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔
کمر کی انجری سے نجات پا کر ٹیم میں واپسی کرنے والے پانڈیا سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ ممبئی انڈینز کو فتح کی راہ پر گامزن کریں گے، لیکن کولکتہ کے خلاف شکست اور پھر بی سی سی آئی کا یہ ایکشن ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ کھیل کے پنڈتوں کا ماننا ہے کہ ایک کپتان کے طور پر ہاردک پانڈیا کو میدان میں اپنے جذبات پر قابو رکھنا سیکھنا ہوگا کیونکہ ان کے ایسے رویے سے پوری ٹیم کا مورال متاثر ہوتا ہے۔
مستقبل میں پانڈیا کے لیے چیلنجز
آئی پی ایل کے قوانین کے مطابق، ڈیمیرٹ پوائنٹس کا جمع ہونا کسی بھی کھلاڑی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ہاردک پانڈیا مستقبل کے میچوں میں بھی اس قسم کے رویے کو دہراتے ہیں اور مزید ڈیمیرٹ پوائنٹس حاصل کرتے ہیں، تو ان پر ایک یا زائد میچز کی پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ ممبئی انڈینز کی انتظامیہ کو اب نہ صرف ٹیم کی کارکردگی بلکہ اپنے کپتان کے رویے اور ذہنی سکون پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہاردک پانڈیا اس مشکل وقت سے نکل کر دوبارہ ایک بہترین کپتان اور آل راؤنڈر کے طور پر خود کو ثابت کر پائیں گے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال ان کے لیے یہ سیزن ہر لحاظ سے مایوس کن ثابت ہو رہا ہے۔
