Henry takes 11 as New Zealand romp to 253-run victory against England – نیوزی لینڈ کی تاریخی کامیابی
اوول ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کا تاریخی معرکہ اور انگلینڈ کی عبرتناک شکست
اوول کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اہم ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو کھیل کے ہر شعبے میں دھول چٹاتے ہوئے 253 رنز سے ایک تاریخی فتح حاصل کر لی ہے۔ اس میچ کے ہیرو فاسٹ باؤلر میٹ ہینری رہے جنہوں نے اپنی تباہ کن باؤلنگ کی بدولت انگلش بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ انگلینڈ کی ٹیم پانچویں دن کی صبح نیوزی لینڈ کے دیے گئے 463 رنز کے بھاری ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے محض ایک گھنٹے کے اندر ہی ڈھیر ہو گئی۔ اس شاندار کارکردگی کے بعد نیوزی لینڈ نے سیریز کو برابر کر دیا ہے اور اب اگلا میچ فیصلہ کن نوعیت اختیار کر گیا ہے۔
پہلی اننگز کا احوال: نیوزی لینڈ کا جاندار آغاز
نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور بورڈ پر 391 رنز کا ایک بڑا مجموعہ سجایا۔ کیوی ٹیم کی جانب سے گلین فلپس نے شاندار سنچری اسکور کرتے ہوئے 101 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ وکٹ کیپر بلے باز بلنڈل نے بھی 51 رنز کا اہم حصہ ڈالا۔ انگلینڈ کی جانب سے نوآموز باؤلر بیتھل نے شاندار باؤلنگ کا ظاہر کرتے ہوئے صرف 26 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں محض 291 رنز بنا سکی۔ انگلینڈ کی جانب سے گے نے 53 اور فشر نے ناقابل شکست 50 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے میٹ ہینری نے پہلی اننگز میں بھی تباہ کن باؤلنگ کی اور 80 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کر کے انگلینڈ کو بیک فٹ پر دھکیل دیا۔
دوسری اننگز: نیوزی لینڈ کا دباؤ اور انگلینڈ کی بے بسی
نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں بھی پراعتماد بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور 362 رنز بنا کر انگلینڈ کے سامنے 463 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کر دیا۔ دوسری اننگز میں نکولس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 121 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ رچن رویندر نے 76 اور مچل نے 68 رنز بنا کر ٹیم کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔ اس بھاری ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم دوسری اننگز میں شدید دباؤ کا شکار نظر آئی۔ ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے انگلینڈ کی پوری ٹیم چوتھے دن کے اختتام پر ہی مشکلات کا شکار تھی اور پانچویں دن کی صبح وہ محض 209 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ جو روٹ نے ایک بار پھر تنہا جنگ لڑتے ہوئے 75 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جبکہ ہیری بروک نے 54 رنز بنائے، لیکن دیگر بلے بازوں نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے کائل جیمیسن نے 37 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ میٹ ہینری نے انگلش بیٹنگ کی کمر توڑ دی۔
میٹ ہینری کا جادوئی اسپیل اور کیریئر کی بہترین باؤلنگ
اس میچ کے اصل ہیرو میٹ ہینری رہے جنہوں نے مجموعی طور پر میچ میں 11 وکٹیں حاصل کیں۔ انگلینڈ کے خلاف اپنے گذشتہ دس ٹیسٹ میچوں میں ہینری نے کبھی بھی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل نہیں کی تھیں، لیکن اس بار انہوں نے اپنی سوئنگ اور سیم باؤلنگ سے انگلش بلے بازوں کو بے بس کر دیا۔ میچ کی دوسری اننگز میں انہوں نے صرف 6.1 اوورز میں 4 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جو ان کے کیریئر کا بہترین اسپیل ہے۔ پانچویں دن کے آغاز میں ہی انہوں نے جو روٹ کو آؤٹ کر کے انگلینڈ کی بچی کھچی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ہینری کی زیادہ تر وکٹیں وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کی شکل میں آئیں، جو ان کی بہترین لائن اور لینتھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بین اسٹوکس کی عدم موجودگی اور انگلینڈ کی ناکامی
کھیل کے پنڈتوں کا ماننا ہے کہ انگلینڈ کو بین اسٹوکس کی عدم موجودگی کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اسٹوکس کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور لارڈز ٹیسٹ کے بعد رات گئے باہر گھومنے کی تحقیقات کے باعث ٹیم سے باہر رکھا گیا تھا۔ انگلش کرکٹ بورڈ نے اتوار کی صبح تصدیق کی کہ اسٹوکس اور گس اٹکنسن کو کاؤنٹی میچوں سے بھی دستبردار کر لیا گیا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ ٹرینٹ برج ٹیسٹ میں واپسی کر سکتے ہیں۔ اسٹوکس کی غیر موجودگی میں انگلش مڈل آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا اور ہدف کا تعاقب کرنے کا فیصلہ ان کے لیے ڈراؤنا خواب بن گیا۔
نیوزی لینڈ کی انگلینڈ میں تاریخی کامیابی
انگلینڈ کی سرزمین پر نیوزی لینڈ کی یہ محض ساتویں ٹیسٹ فتح ہے، اور اس صدی میں انگلینڈ میں نیوزی لینڈ کی یہ صرف تیسری جیت ہے۔ اس فتح نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کیوی ٹیم مشکل ترین حالات میں بھی کم بیک کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ جس انداز میں نیوزی لینڈ نے دوسرے، تیسرے اور چوتھے دن کھیل پر اپنا کنٹرول قائم کیا، وہ ان کی ذہنی پختگی اور بہترین حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ اب دونوں ٹیموں کی نظریں اگلے ٹیسٹ پر مرکوز ہیں جو سیریز کا فیصلہ کن معرکہ ثابت ہو گا۔
