Hesson debunks pitches ‘myth’, says there will be ‘variety’ at ODI World Cup
پاکستان کی حکمت عملی اور پچز پر تنقید کا جواب
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں میزبان ٹیم کی شاندار فتح کے بعد پچ کے انتخاب پر ہونے والی تنقید پر پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے خاموشی توڑ دی ہے۔ ہیسن نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ اسپن کے لیے سازگار پچیں 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری میں رکاوٹ ہیں۔
مائیک ہیسن نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگلے ورلڈ کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچنا غلط ہے کہ تمام پچز تیز اور باؤنسی ہوں گی۔ ہیسن کے مطابق: Hesson debunks pitches ‘myth’, says there will be ‘variety’ at ODI World Cup اور ان کا ماننا ہے کہ زمبابوے اور نمیبیا میں اسپنرز کا کردار انتہائی اہم ہوگا، اس لیے پاکستان مختلف حالات کے لیے اپنی تیاری مکمل کر رہا ہے۔
اسپنرز کا راج اور میچ کی صورتحال
راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے میچ میں اسپنرز کا دبدبہ رہا، جہاں مجموعی طور پر 62.3 اوورز اسپنرز نے کرائے اور میچ میں گرنے والی 15 میں سے 11 وکٹیں اسپنرز کے نام رہیں۔ ڈیبیو کرنے والے بائیں ہاتھ کے آرتھوڈوکس اسپنر عرفات منہاس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔
جنوبی افریقہ کے تجربات اور مستقبل کی منصوبہ بندی
ہیڈ کوچ نے یاد دلایا کہ دسمبر 2024 میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا جہاں اسپنرز نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پال اور جوہانسبرگ میں ہونے والے میچوں میں سلمان علی آغا اور سفیان مقیم نے اپنی اسپن بولنگ سے میچ جتوائے تھے۔ ہیسن نے کہا کہ ٹیم نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں مختلف کنڈیشنز پر گہری تحقیق کی ہے اور وہ آئندہ 18 مہینوں میں مزید ورائٹی پر کام جاری رکھیں گے۔
غازی غوری کا بیان: بابر اعظم کی موجودگی نے کام آسان بنایا
دوسری جانب، پاکستان کے نوجوان بلے باز غازی غوری نے اپنی پہلی نصف سنچری اسکور کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں کسی بھی قسم کی غفلت نہیں برتی جائے گی۔ غوری نے تسلیم کیا کہ ان کی 127 رنز کی پارٹنرشپ میں بابر اعظم کا کردار نہایت اہم تھا۔
بابر اعظم کی رہنمائی
غوری نے مزید کہا: ‘بابر اعظم ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں، کریز پر ان کی موجودگی سے مجھے بہت اعتماد ملا۔ انہوں نے مجھے پچ کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا اور مجھے ہدایت دی کہ صرف اسٹرائیک روٹیٹ کرنے پر توجہ دوں۔ بابر نے خود ذمہ داری سنبھالی جس سے میرا دباؤ کافی حد تک کم ہو گیا۔’
آسٹریلیا کی ٹیم اس وقت سیریز میں 0-1 کے خسارے میں ہے اور اگلے میچ میں انہیں اپنی بقا کے لیے سخت جدوجہد کرنا ہوگی۔ اگرچہ مہمان ٹیم میں کئی اہم کھلاڑی موجود نہیں ہیں، تاہم پاکستانی کیمپ کا ماننا ہے کہ کسی بھی آسٹریلوی ٹیم کو کمزور سمجھنا حماقت ہوگی۔
نتیجہ
پاکستان کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ، خاص طور پر مائیک ہیسن کی حکمت عملی، آنے والے بڑے ایونٹس کے لیے بالکل واضح ہے۔ پچز کے انتخاب پر تنقید کے باوجود، ٹیم انتظامیہ اپنی تیاریوں کے نتائج پر پرعزم ہے اور انہیں یقین ہے کہ متنوع کنڈیشنز میں کھیل کر ہی کھلاڑی ورلڈ کپ کے بڑے دباؤ کے لیے تیار ہو سکیں گے۔
