Ian Botham crowns Virat Kohli among Test cricket’s all-time greats – این بوتھم کی جانب سے ویرات کوہلی کو ٹیسٹ کرکٹ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل قرار دیا گیا
ٹیسٹ کرکٹ کا عظیم سفیر: ویرات کوہلی
اگرچہ ہندوستانی کرکٹ کے سپر اسٹار ویرات کوہلی اب ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں، لیکن اس روایتی فارمیٹ کے لیے ان کی محبت اور جذبہ آج بھی مداحوں اور کرکٹ ماہرین کے لیے ایک مثال ہے۔ مئی 2025 میں اپنے شاندار ٹیسٹ کیریئر کو خیرباد کہنے کے بعد بھی، کوہلی کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کو دی جانے والی ترجیح یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ اس کھیل کے تئیں کتنے مخلص ہیں۔
این بوتھم کی نظر میں کوہلی کا قد کاٹھ
حال ہی میں، انگلینڈ کے سابق کپتان اور لیجنڈری آل راؤنڈر این بوتھم نے کوہلی کی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے وقفیت کی بھرپور تعریف کی ہے۔ بارہویں ٹائیگر پٹودی میموریل لیکچر کے دوران خطاب کرتے ہوئے، بوتھم نے کہا کہ کوہلی کا یہ بیان کہ ‘ہندوستان کے لیے ٹیسٹ میچ جیتنا ان کے لیے کسی بھی دوسری کامیابی سے بڑھ کر ہے’، ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بوتھم کے مطابق، ایک ایسے دور میں جہاں ٹی ٹوئنٹی لیگز کا غلبہ ہے، کوہلی کا ٹیسٹ کرکٹ کو اولیت دینا انہیں ایک منفرد اور عظیم کھلاڑی بناتا ہے۔
ایک شاندار کیریئر کا احاطہ
12 مئی 2025 کو اپنے ٹیسٹ کیریئر کا اختتام کرنے والے ویرات کوہلی نے 123 ٹیسٹ میچوں میں 9,230 رنز بنائے۔ ان کی کپتانی میں ہندوستانی ٹیم نے نہ صرف ہوم گراؤنڈ پر بلکہ بیرون ملک بھی کامیابیاں سمیٹیں۔ آسٹریلیا میں بارڈر-گاوسکر ٹرافی کی تاریخی فتح ہو یا دیگر اہم سیریز، کوہلی نے ٹیم میں ایک جارحانہ مزاج اور جیتنے کی لگن پیدا کی۔ کوہلی نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹیسٹ میچوں میں فتح کا احساس ان کے لیے آئی پی ایل کی ٹرافی جیتنے سے بھی زیادہ خوشگوار رہا ہے۔
ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) پر کوہلی کا نقطہ نظر
ٹیسٹ کرکٹ کے علاوہ، ویرات کوہلی خواتین کی کرکٹ میں آنے والے انقلاب پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ آر سی بی (RCB) کے آئیکن کوہلی کا ماننا ہے کہ ویمنز پریمیئر لیگ نے ہندوستانی خواتین کی کرکٹ کی سطح کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
ڈبلیو پی ایل کے اثرات
- کھلاڑیوں کی ترقی: نوجوان کھلاڑیوں کو دنیا کی بہترین کرکٹرز کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔
- مداحوں کی شرکت: بڑودہ، نوی ممبئی اور بنگلورو جیسے شہروں میں اسٹیڈیمز کا بھر جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کھیل کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
- معیار میں بہتری: کوہلی کے مطابق، جب عوام کھیل میں دلچسپی لینے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کا معیار واقعی بدل چکا ہے۔
ویرات کوہلی کا ماننا ہے کہ ڈبلیو پی ایل صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ہندوستانی کرکٹ کے مستقبل کی نئی بنیاد ہے۔ ان کا یہ وسیع نقطہ نظر نہ صرف مردوں کی کرکٹ بلکہ پورے کھیل کے تئیں ان کی ذمہ داری اور گہری سمجھ کو ظاہر کرتا ہے۔ این بوتھم کا یہ ماننا کہ کوہلی جدید دور کے عظیم ترین ٹیسٹ کھلاڑی ہیں، دراصل ان کی سالوں کی محنت اور اس کھیل کے لیے ان کی غیر مشروط محبت کا اعتراف ہے۔ کوہلی کا ورثہ صرف ان کے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ وہ ہمیشہ ٹیسٹ کرکٹ کے ایک ایسے سفیر کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس نے کھیل کی اصل روح کو ہمیشہ زندہ رکھا۔
