Your Source for Cricket Stats & Insights
Bangladesh Cricket

Nigar Sultana Joty’s heroic 77 goes in vain as Bangladesh women lose to Netherla | بنگلہ دیش کی شکست

Priya Patel · · 1 min read

ایڈنبرگ میں سنسنی خیز مقابلہ: بنگلہ دیشی خواتین ٹیم کی ایک اور ناکامی

ایڈنبرگ کے خوبصورت میدان پر کھیلے گئے سہ فریقی سیریز کے دوسرے میچ میں بنگلہ دیشی خواتین کرکٹ ٹیم کو نیدرلینڈز کے خلاف ایک انتہائی قریبی اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد 8 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میچ میں بنگلہ دیش کی کپتان نگار سلطانہ جونی نے ایک یادگار اور دلیرانہ اننگز کھیلی، لیکن بدقسمتی سے وہ اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں ناکام رہیں۔ یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ Nigar Sultana Joty’s heroic 77 goes in vain as Bangladesh women lose to Netherla کیونکہ کپتان کی یہ بے مثال کوشش رائیگاں چلی گئی اور بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ میں مسلسل دوسری شکست کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ اس شکست نے ٹیم کے فائنل تک پہنچنے کے سفر کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

ٹاس اور نیدرلینڈز کی بیٹنگ کا احوال

میچ کا آغاز بنگلہ دیش کی کپتان نگار سلطانہ جونی کے حق میں ہوا جنہوں نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایڈنبرگ کی پچ پر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کسی حد تک درست معلوم ہو رہا تھا، لیکن نیدرلینڈز کی بیٹرز نے اس فیصلے کو غلط ثابت کرنے کے لیے سخت محنت کی اور بنگلہ دیشی گیند بازوں پر شروع ہی سے دباؤ بڑھایا۔ نیدرلینڈز کی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 162 رنز کا ایک انتہائی مسابقتی مجموعہ بورڈ پر سجایا۔

نیدرلینڈز کی اننگز کی خاص بات ان کی اوپنر ہیدر سیگرز (Heather Siegers) کی شاندار بیٹنگ تھی۔ انہوں نے بنگلہ دیشی باؤلرز کے خلاف جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 43 گیندوں پر 52 رنز کی بہترین نصف سنچری اسکور کی۔ ان کی اس اننگز نے نیدرلینڈز کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی جس کا فائدہ مڈل آرڈر نے بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے فریحہ اسلام ترشنا (Fariha Islam Trisna) سب سے کامیاب باؤلر رہیں، جنہوں نے اپنے کوٹے کے اوورز میں عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے علاوہ معروفہ اختر (Marufa Akter) اور رابعہ خان (Rabeya Khan) کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔ باؤلنگ لائن نے حریف بلے بازوں کو روکنے کی بھرپور کوشش کی لیکن آخری اوورز میں رنز کی رفتار کو قابو میں نہ رکھا جا سکا۔

بنگلہ دیش کا مایوس کن آغاز اور ابتدائی جھٹکے

163 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیشی ٹیم کا آغاز انتہائی مایوس کن اور ہلاکت خیز رہا۔ ٹیم کے اوپنرز مطلوبہ رن ریٹ کا دباؤ برداشت نہ کر سکے اور جلد ہی پویلین لوٹ گئے۔ دلارا اختر (Dilara Akter) اور شارمین اختر (Sharmin Akhter) دونوں ہی محض 13 رنز کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئیں۔ ان دونوں اہم وکٹوں کے گرنے سے بنگلہ دیشی ٹیم فوری طور پر شدید دباؤ میں آ گئی اور رن ریٹ کا گراف مسلسل گرتا گیا۔ اس نازک موڑ پر ٹیم کو ایک مضبوط شراکت داری کی ضرورت تھی تاکہ اننگز کو دوبارہ سنبھالا جا سکے۔

کپتان کی قیادت اور جوائریہ فردوس کی مزاحمت

اس نازک صورتحال میں کپتان نگار سلطانہ جونی نے کریز پر قدم رکھا اور اننگز کو سنبھالنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی۔ انہوں نے جوائریہ فردوس (Juairiya Ferdous) کے ساتھ مل کر اننگز کو دوبارہ بنانے کی کوشش کی۔ جوائریہ نے کپتان کا کچھ حد تک ساتھ دیا اور 24 گیندوں پر 22 رنز بنا کر آؤٹ ہوئیں۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی جونی نے ایک سرے کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور رنز بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

تاہم، بنگلہ دیشی مڈل آرڈر کی جانب سے کپتان کو وہ تعاون حاصل نہ ہو سکا جس کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔ شورنا اختر (Shorna Akter) نے 9 گیندوں پر صرف 10 رنز بنائے، جبکہ ریتو مونی (Ritu Moni) نے آخری لمحات میں 12 گیندوں پر 17 رنز کی ایک مختصر لیکن مفید اننگز کھیلی۔ لیکن یہ شراکت داریاں ہدف تک پہنچنے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکیں اور رنز کی رفتار بڑھانے کا سارا بوجھ کپتان پر آ گیا۔

نگار سلطانہ جونی کی دلیرانہ جنگ اور آخری اوور کا ڈرامہ

کپتان نگار سلطانہ جونی نے دباؤ کے باوجود ہار نہیں مانی اور نیدرلینڈز کی باؤلنگ لائن کے خلاف شاندار جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے میدان کے چاروں اطراف شاندار شاٹس کھیلے اور اپنی بہترین نصف سنچری مکمل کی۔ جونی نے بنگلہ دیش کی امیدوں کو آخری اوور تک زندہ رکھا۔ ان کی بیٹنگ میں عزم اور فتح حاصل کرنے کا جنون صاف نظر آ رہا تھا، جہاں انہوں نے اکیلے ہی نیدرلینڈز کے گیند بازوں کا سامنا کیا۔

لیکن بدقسمتی سے، آخری اوور میں جب ٹیم کا اسکور 152 رنز تک پہنچا، تو نگار سلطانہ جونی 51 گیندوں پر 77 رنز کی دلیرانہ اور شاندار اننگز کھیلنے کے بعد آؤٹ ہو گئیں جس سے بنگلہ دیشی ٹیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ بنگلہ دیشی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں محض 154 رنز ہی بنا سکی اور ہدف سے صرف 8 رنز دور رہ گئی۔ نیدرلینڈز کی ہیدر سیگرز نے نہ صرف بیٹنگ میں بلکہ باؤلنگ میں بھی کمال کا مظاہرہ کیا اور 3 وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی اس آل راؤنڈ کارکردگی نے نیدرلینڈز کو ایک شاندار فتح دلائی۔

بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے سبق اور مستقبل کا چیلنج

اس شکست کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے اب آگے کی راہ مزید کٹھن ہو گئی ہے۔ ٹورنامنٹ میں مسلسل دو شکستوں نے ٹیم کے حوصلوں کو متاثر کیا ہوگا، لیکن کپتان نگار سلطانہ جونی کی فارم ٹیم کے لیے ایک مثبت پہلو ہے۔ بنگلہ دیشی مڈل آرڈر اور اوپننگ بلے بازوں کو اپنی کارکردگی پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا تاکہ آنے والے میچوں میں کپتان پر دباؤ کم کیا جا سکے اور ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ اگر دیگر کھلاڑیوں نے کپتان کا ساتھ دیا ہوتا تو اس میچ کا نتیجہ یقیناً مختلف ہو سکتا تھا۔

Avatar photo
Priya Patel

Priya Patel writes detailed cricket statistics articles, focusing on batting averages, strike rates, player milestones, and IPL records.