بنگلہ دیش کے ہاتھوں شرمناک شکست پر کامران اکمل برہم، پاکستان کرکٹ کے زوال کی اصل وجوہات
پاکستان کرکٹ کا زوال: کامران اکمل کی شدید مایوسی
بنگلہ دیش کے ہاتھوں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 کی عبرتناک شکست نے پاکستان کرکٹ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اس شرمناک وائٹ واش کے بعد، سابق پاکستانی وکٹ کیپر کامران اکمل نے خاموشی توڑتے ہوئے ٹیم کی کارکردگی اور پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک سسٹم میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جائیں گی، تب تک کرکٹ کا معیار بہتر نہیں ہو سکتا۔
سیریز کی ناکامی کا تجزیہ
پاکستان کی یہ شکست محض ایک ہارا ہوا میچ نہیں بلکہ گزشتہ سات ٹیسٹ میچوں میں مسلسل ناکامیوں کا تسلسل ہے۔ سیریز کے دوران پاکستانی ٹیم نے کئی بار اہم لمحات میں خود کو کمزور ثابت کیا۔ اگرچہ سیریز کے آغاز میں محمد عباس نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور بنگلہ دیش کو مشکل میں ڈالا، مگر لٹن داس کی سنچری نے میزبان ٹیم کو کھیل میں واپس لا کھڑا کیا۔ اس کے برعکس، پاکستانی بلے باز پوری سیریز میں بنگلہ دیشی اسپنرز کے سامنے بے بس نظر آئے۔
کامران اکمل کے تلخ تبصرے
ایک یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کامران اکمل نے بنگلہ دیش کی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ: ‘بنگلہ دیش کو اس بڑی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ملک میں ہنگامہ آرائی اور سیاسی حالات کے باوجود، انہوں نے اپنی بنیادی کرکٹ پر توجہ برقرار رکھی۔’ تاہم، انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کے بارے میں کہا: ‘اب شرمندگی کے سوا کچھ نہیں بچا۔ ہم گزشتہ چھ سات سالوں سے یہی باتیں کر رہے ہیں، لیکن کچھ بھی نہیں بدل رہا۔’
مفادات کا ٹکراؤ اور غیر کرکٹرز کا عمل دخل
کامران اکمل نے پاکستان کرکٹ میں غیر کرکٹرز کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا: ‘جب غیر کرکٹرز کے انا کے مسائل کرکٹ میں شامل ہو جائیں تو کھیل کبھی بہتر نہیں ہو سکتا۔ جب آپ میرٹ کے بجائے سفارش پر فیصلے کرتے ہیں، تو کارکردگی کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔’
انہوں نے کھلاڑیوں کی دوغلی پالیسی پر بھی سوال اٹھایا۔ کامران کا ماننا ہے کہ پی ایس ایل کے دوران کھلاڑی فٹ رہتے ہیں، مگر ملکی کرکٹ کے لیے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں ان کے فٹنس مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ رویہ قومی ٹیم کی کارکردگی میں زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
فٹنس کے معیار پر تنقید
سابق وکٹ کیپر نے موجودہ فٹنس ٹیسٹ کے سخت اور غیر ضروری معیارات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا کھلاڑی جو سنچریاں بنا سکتا ہے اور دن میں 18 اوور کروا سکتا ہے، اس کا کیریئر صرف ایک چھلانگ (jump) یا چند سیکنڈ کی تاخیر پر ختم کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، فیصلہ سازوں کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔
بھارت کی مثال اور مستقبل کا منظرنامہ
کامران اکمل نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے سینئر کھلاڑیوں جیسے پجارا، رہانے اور دھون کے ساتھ ان کے کیریئر کے اختتام پر عزت سے پیش آیا، جبکہ پاکستان میں دوستی اور ذاتی پسند و ناپسند کو ٹیم پر فوقیت دی جاتی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے کامران اکمل کا نظریہ انتہائی مایوس کن ہے۔ ان کا کہنا ہے: ‘عملی طور پر، میں اگلے چار پانچ سال تک حالات میں بہتری نہیں دیکھ رہا۔ اگر آپ بہتری چاہتے ہیں تو آپ کو بڑے اور مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، ورنہ کچھ نہیں بدلے گا۔’
نتیجہ
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) میں پاکستان اب آٹھویں پوزیشن پر کھسک چکا ہے۔ آنے والے وقت میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف سیریز پاکستان کے لیے مزید چیلنجنگ ہو سکتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے اور جذبات سے ہٹ کر پیشہ ورانہ بنیادوں پر فیصلے کرے، بصورت دیگر عالمی کرکٹ میں پاکستان کی پوزیشن مزید گر سکتی ہے۔
