ممبئی انڈینز کی حکمت عملی پر منوج تیواری برہم، روہت شرما کے استعمال پر تنقید
ممبئی انڈینز کی حکمت عملی پر سوالات
آئی پی ایل کے حالیہ سیزن میں ممبئی انڈینز کی کارکردگی اور ٹیم مینجمنٹ کے فیصلوں پر کرکٹ حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ سابق بھارتی بلے باز اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے سابق کھلاڑی منوج تیواری نے ممبئی انڈینز کی انتظامیہ کی جانب سے روہت شرما کو صرف ‘امپیکٹ پلیئر’ کے طور پر استعمال کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ تیواری کا ماننا ہے کہ ایک پانچ بار کی چیمپئن ٹیم کے سابق کپتان کو ڈگ آؤٹ میں بٹھانا نہ صرف ان کے تجربے کی توہین ہے بلکہ ٹیم کی فیلڈنگ اور حکمت عملی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
روہت شرما کا تجربہ کیوں ضروری ہے؟
منوج تیواری نے اس بات پر زور دیا کہ روہت شرما جیسے تجربہ کار کھلاڑی کا میدان میں موجود ہونا کپتان ہاردک پانڈیا کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تیواری نے کہا کہ ‘اگر ہاردک کو کپتانی میں مدد کی ضرورت ہے تو روہت وہاں موجود ہیں، پھر انہیں ڈگ آؤٹ میں کیوں بٹھایا جاتا ہے؟’ تیواری نے فیلڈنگ کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سلپ پوزیشن پر کیچ چھوڑے جا رہے ہیں، جبکہ روہت شرما جیسے ماہر فیلڈر کے ہوتے ہوئے یہ غلطیاں نہیں ہونی چاہئیں۔
وراثت کا زوال
ٹیواری نے مزید کہا کہ ممبئی انڈینز نے جس طرح روہت شرما کی کپتانی کی وراثت کو ختم کیا ہے، وہ مایوس کن ہے۔ 2024 میں کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد سے ٹیم کی کارکردگی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ تیواری کے مطابق روہت کے چہرے کے تاثرات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ٹیم کے فیصلوں سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ممبئی کی تمام پانچ ٹرافیاں روہت کی قیادت میں ہی جیتی گئی تھیں۔
2027 کے لیے پیشگوئی
تجزیے کے دوران منوج تیواری نے یہ دعویٰ کیا کہ ممبئی انڈینز کو اب قیادت میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں 200 فیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگلے سیزن میں ہمیں ایک نیا کپتان دیکھنے کو ملے گا، چاہے وہ سوریہ کمار یادو ہوں یا جسپریت بمراہ۔’
میچ کا خلاصہ: کے کے آر بمقابلہ ایم آئی
ایڈن گارڈنز پر کھیلے گئے میچ میں کے کے آر نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بارش سے متاثرہ پچ پر کے کے آر کے بولرز نے ممبئی کے ٹاپ آرڈر کو بری طرح ناکام بنا دیا۔ کیمرون گرین اور سوربھ دوبے کی شاندار بولنگ کے سامنے ممبئی کی ٹیم مشکلات کا شکار رہی۔ منیش پانڈے کی شاندار 45 رنز کی اننگز نے کے کے آر کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب ممبئی انڈینز کی بیٹنگ لائن اپ، جو 147 رنز پر محدود ہو گئی تھی، پورے میچ میں ردھم حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
نتیجہ
ممبئی انڈینز کے لیے اب یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے جہاں ٹیم نہ صرف پلے آف کی دوڑ سے باہر نظر آ رہی ہے بلکہ ان کے اندرونی معاملات بھی میڈیا کی سرخیوں میں ہیں۔ روہت شرما کو واپس میدان میں لانا اور قیادت کے معاملات پر دوبارہ غور کرنا ٹیم کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہو سکتا ہے۔ کیا ممبئی انڈینز اپنی غلطیوں سے سیکھ پائے گی؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
