مائیکل وان کی پیش گوئی: جسٹن لینگر کی لکھنؤ سپر جائنٹس سے رخصتی ممکن
آئی پی ایل 2026: لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے ایک اور مایوس کن سیزن
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ ٹیم کی مسلسل شکستوں اور پوائنٹس ٹیبل پر نچلی ترین پوزیشن نے فرنچائز کی قیادت اور کوچنگ اسٹاف کے مستقبل پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے حال ہی میں اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ہیڈ کوچ جسٹن لینگر کے ٹیم کے ساتھ طویل سفر کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
مائیکل وان کا سخت تجزیہ
ایک معروف کرکٹ شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مائیکل وان نے کہا کہ اگرچہ لکھنؤ سپر جائنٹس کا اسکواڈ شاید ٹائٹل جیتنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، لیکن مسلسل نچلے درجے پر رہنا کوچنگ اسٹاف کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رشبھ پنت کی قیادت میں ٹیم نے جو نتائج دیے ہیں، وہ کسی بھی پیشہ ورانہ فرنچائز کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ وان کے مطابق، کوچز اور مینجمنٹ کو اسی لیے معاوضہ دیا جاتا ہے کہ وہ ٹیم کے کلچر، اخلاقیات اور میدان میں کارکردگی کو بہتر بنائیں۔
پانچ باورچی اور ایک کچن
مائیکل وان نے ٹیم کے ڈھانچے میں موجود پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے ‘بہت زیادہ مداخلت’ قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لکھنؤ کی ٹیم میں ٹام موڈی، کین ولیمسن، جسٹن لینگر، رشبھ پنت اور خود مالکان سمیت کئی بااثر آوازیں موجود ہیں۔ وان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ صورتحال بالکل ایسی ہے جیسے ایک ہی کچن میں پانچ باورچی کام کر رہے ہوں، جس کی وجہ سے حکمت عملی کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔
اینڈی فلاور بمقابلہ موجودہ کوچنگ اسٹاف
وان نے سابق کوچ اینڈی فلاور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سے بھی کمزور اسکواڈ کے ساتھ ٹیم کو تیسری پوزیشن پر پہنچایا تھا۔ انہوں نے جوز مورینیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم کوچ وہ ہے جو دستیاب وسائل کا بہترین استعمال کر کے نتائج دے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے رشبھ پنت کی کپتانی میں گزشتہ دو سیزن میں 28 میچوں میں صرف 10 فتوحات حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمت عملی میں کہیں بڑی خامی موجود ہے۔
رشبھ پنت پر تنقید کا بوجھ
صرف کوچنگ اسٹاف ہی نہیں، بلکہ کپتان رشبھ پنت بھی تنقید کی زد میں ہیں۔ بلے بازی میں تسلسل کا فقدان اور بڑی سرمایہ کاری کے باوجود توقعات پر پورا نہ اترنا پنت کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ لکھنؤ کی ٹیم 2024 اور 2025 میں ساتویں پوزیشن پر رہنے کے بعد، 2026 میں پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے آ گئی ہے، جس نے مینجمنٹ کو بڑے فیصلوں پر مجبور کر دیا ہے۔
مستقبل کے امکانات
کیا لکھنؤ سپر جائنٹس جسٹن لینگر پر اعتماد برقرار رکھے گی؟ مائیکل وان کا ماننا ہے کہ فرنچائز شاید ہی اب لینگر کے ساتھ مزید آگے بڑھنے کا خطرہ مول لے۔ آئی پی ایل جیسی مسابقتی لیگ میں مسلسل ناکامی کسی بھی کوچ کے لیے کرسی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لکھنؤ کی انتظامیہ آئندہ سیزن کے لیے کیا حکمت عملی اپناتی ہے اور کیا وہ اپنی ٹیم کی قیادت میں کوئی بڑی تبدیلی لاتی ہے یا نہیں۔
فوٹو کریڈٹ: سوشل میڈیا اور آئی پی ایل آفیشل
