کیا ایم ایس دھونی چنئی سپر کنگز چھوڑ رہے ہیں؟ سنسنی خیز انکشافات
تصور کریں کہ مہندر سنگھ دھونی (MS Dhoni) انڈین پریمیئر لیگ (IPL) میں چنئی سپر کنگز (CSK) کے علاوہ کسی اور ٹیم کے لیے کھیل رہے ہیں، یا پھر وہ اس پیلی جرسی میں نظر ہی نہ آئیں۔ یہ بات کسی بھی کرکٹ کے مداح کے لیے نہ صرف عجیب ہے بلکہ ناقابل یقین بھی ہے۔ دھونی اور چنئی سپر کنگز کا رشتہ محض ایک کھلاڑی اور فرنچائز کا نہیں، بلکہ ایک خاندان کا رہا ہے۔ لیکن حالیہ سنسنی خیز رپورٹس اور اندرونی ذرائع کے دعووں کے مطابق، یہ افسانوی رشتہ اب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ موجودہ آئی پی ایل 2026 کے سیزن کے بعد یہ ممکن ہے کہ دھونی اور چنئی کی راہیں ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائیں۔
آئی پی ایل 2026 اور دھونی کی پراسرار دوری
یہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایم ایس دھونی آئی پی ایل کے پورے سیزن میں ایک بھی میچ نہیں کھیل پائے۔ اگرچہ گروپ اسٹیج میں ابھی ایک میچ باقی ہے، لیکن امکان یہی ہے کہ دھونی اس میچ کا حصہ بھی نہیں ہوں گے۔ پورے سیزن کے دوران، جب بھی ٹیم کے ہیڈ کوچ یا دیگر انتظامیہ سے دھونی کی غیر موجودگی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ 44 سالہ دھونی میدان میں اترنے کے لیے مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں۔ تاہم، دوسری طرف نیٹ پریکٹس کے دوران دھونی بالکل فٹ اور شاندار فارم میں نظر آ رہے تھے۔ اس تضاد نے مداحوں اور تجزیہ کاروں کے ذہنوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کیا دھونی اور چنئی سپر کنگز کے تعلقات اب ناقابل مرمت ہو چکے ہیں؟
آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں دھونی کے میدان میں نہ اترنے کی اصل وجہ اب بھی دھندلی ہے، لیکن پس پردہ کچھ ایسی تبدیلیاں ہو رہی ہیں جن کا اثر بہت گہرا ہے۔ ذرائع کے مطابق، چنئی سپر کنگز کی فرنچائز اور سابق کپتان ایم ایس دھونی اب ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تعلقات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ اب ان کی واپسی یا مرمت ممکن نظر نہیں آتی۔
ایک اندرونی ذریعے نے کرک بلاگر (Cricblogger) کو بتایا: “دھونی اور سی ایس کے کے مابین تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ ‘تھالا’ اب 2026 کے آئی پی ایل کے بعد کبھی پیلی جرسی میں نظر نہیں آئیں گے۔ فرنچائز نے اس سال دھونی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا، جس کی وجہ سے وہ کافی ناراض اور دلبرداشتہ ہیں۔”
سنجو سیمسن اور روندر جڈیجہ کے فیصلے: دھونی کو اندھیرے میں رکھا گیا؟
اس کشیدگی کی بنیادی وجہ ٹیم کی تشکیل کے عمل میں دھونی کو شامل نہ کرنا بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سی ایس کے مینجمنٹ نے پچھلے دو سالوں کے دوران ٹیم کے اہم فیصلوں میں دھونی سے کوئی مشورہ نہیں لیا۔ سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب روندر جڈیجہ اور سنجو سیمسن سے متعلق اہم ٹریڈ ڈیلز (Trade Deals) دھونی کی مرضی اور علم کے بغیر کی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دھونی ان تبادلوں سے شدید ناخوش تھے کیونکہ یہ سب ان کی پیٹھ پیچھے ہوا تھا۔ چنئی سپر کنگز کی انتظامیہ اب مستقبل کے لیے ایک نئی ٹیم تیار کرنا چاہتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ سینئر کھلاڑیوں سے آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، لیکن اس عمل میں دھونی جیسے عظیم لیڈر کو نظرانداز کرنا فرنچائز کے لیے ایک بڑا اور متنازع فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
چپاک اسٹیڈیم کا الوداعی چکر اور روی چندرن ایشون کا انکشاف
چنئی سپر کنگز نے جاری سیزن کا اپنا آخری ہوم میچ 18 مئی کو سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم (چپاک) میں کھیلا۔ میچ ختم ہونے کے بعد، ایم ایس دھونی نے اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں پرجوش مداحوں کے سامنے گراؤنڈ کا ایک چکر (Lap of Honor) لگایا۔ اس لمحے نے اچانک ریٹائرمنٹ کے خدشات کو جنم دیا، لیکن اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی بات دھونی کا رویہ تھا۔
دھونی کے سابق ساتھی کھلاڑی اور بھارت کے مایہ ناز اسپنر روی چندرن ایشون نے اس الوداعی چکر میں کچھ غیر معمولی محسوس کیا۔ ایک آن لائن گفتگو کے دوران ایشون نے دعویٰ کیا کہ اس دن دھونی کے چہرے پر وہ روایتی خوشی اور مسکراہٹ نہیں تھی جو ہمیشہ چنئی کے مداحوں کے سامنے ہوتی تھی۔
ایشون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “ایم ایس دھونی چنئی سپر کنگز سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ میدان کا چکر لگا رہے تھے، تو مجھے ان کی آنکھوں میں وہ محبت اور چہرے پر وہ خوشی نظر نہیں آئی جو ہمیشہ ہوتی تھی۔ ماضی میں جب بھی وہ شائقین کے سامنے جاتے تھے، ان کا جوش اور خوشی الگ ہی ہوتی تھی۔ لیکن اس بار سب کچھ بدلا ہوا اور مختلف محسوس ہوا، میں نہیں جانتا کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے۔”
مداحوں کے لیے ایک بڑا صدمہ
ایم ایس دھونی صرف ایک کرکٹر نہیں ہیں، وہ چنئی کے مداحوں کے لیے ‘تھالا’ (لیڈر) ہیں۔ سی ایس کے کے ساتھ ان کا سفر جذبات، فتوحات اور بے مثال وفاداری سے بھرا رہا ہے۔ اگر یہ خبریں سچ ثابت ہوتی ہیں اور دھونی واقعی فرنچائز کے رویے سے مایوس ہو کر الگ ہو رہے ہیں، تو یہ چنئی سپر کنگز کی تاریخ کا سب سے اداس ترین باب ہوگا۔ نوجوان کھلاڑیوں کو لانا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہر فرنچائز کا حق ہے، لیکن جس کھلاڑی نے اس ٹیم کو پانچ آئی پی ایل ٹائٹلز جتوائے اور اسے برانڈ بنایا، اس کے ساتھ ایسا سلوک کرکٹ شائقین کے لیے ہضم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ خوبصورت کہانی واقعی اتنے تلخ موڑ پر ختم ہوگی یا کوئی معجزہ اس رشتے کو دوبارہ جوڑ پائے گا۔
