Your Source for Cricket Stats & Insights
News

“‘No one is going to point fingers’ – Pollard on Hardik’s captaincy” – ممبئی انڈینز کا مایوس کن سیزن اور مستقبل کا لائحہ عمل

Ishaan Brooks · · 1 min read

ممبئی انڈینز کا مایوس کن سیزن اور ‘اگر مگر’ کی صورتحال

آئی پی ایل 2026 کا سیزن ممبئی انڈینز کے لیے ایک مایوس کن سفر ثابت ہوا، جہاں ٹیم نویں نمبر پر رہی۔ راجستھان رائلز کے خلاف آخری لیگ میچ میں شکست کے بعد، ممبئی انڈینز کے بیٹنگ کوچ کیرون پولارڈ نے پریس کانفرنس میں کھل کر گفتگو کی۔ پولارڈ کا کہنا تھا کہ یہ سیزن ‘اگر اور مگر’ کی نذر ہو گیا۔ ان کے مطابق، جب سیزن کا اختتام اس طرح ہو تو ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہوتا یا وہ شاٹ کھیلا ہوتا تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔

پولارڈ نے اعتراف کیا کہ بطور ممبئی انڈینز فیملی، یہ ہم سب کے لیے انتہائی مایوس کن مرحلہ ہے۔ شائقین کی مایوسی بھی بالکل جائز ہے اور ہم اس حقیقت سے فرار اختیار نہیں کر سکتے۔ ہم مسلسل فتوحات حاصل کرنے اور میچز میں ملنے والے مومینٹم کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ٹورنامنٹ میں وہ اثر چھوڑنے میں ناکام رہے جس کے لیے ممبئی انڈینز کی ٹیم جانی جاتی ہے۔

ہاردک پانڈیا کی کپتانی اور ٹیم کی اجتماعی ناکامی

اس سیزن کے دوران سب سے زیادہ بحث ہاردک پانڈیا کی قیادت پر ہوئی۔ جب پولارڈ سے کپتانی اور ٹیم میں تبدیلیوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح موقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ “‘No one is going to point fingers’ – Pollard on Hardik’s captaincy” کا اصول اس ٹیم کی بنیاد ہے۔ پولارڈ کا ماننا ہے کہ جب ٹیم ہارتی ہے تو شکست کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ پوری ٹیم پر عائد ہوتی ہے۔ ہاردک نے اپنی طرف سے بہترین کوشش کی اور مینجمنٹ نے بھی انہیں لیڈ کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔

کیرون پولارڈ نے پچھلے سیزنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بارہ ماہ پہلے ہم نے ٹورنامنٹ کا اختتام چوتھے نمبر پر کیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت کی گئی تبدیلیاں کسی حد تک درست تھیں۔ لیکن اب نویں نمبر پر سیزن ختم کرنے کے بعد، ہمیں اپنی حکمت عملی کا گہرائی سے جائزہ لینا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس قسم کی عدم تسلسل سے بچا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہاردک پانڈیا بطور کھلاڑی بھی اس سیزن میں اپنی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان پر انگلی اٹھائیں۔ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہیں اور ہمیں اسے ایک ٹیم کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔

جسپریت بمراہ کی فٹنس اور میچ سے باہر رکھنے کی حکمت عملی

ٹیم کے اہم ترین فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کے لیے بھی یہ سیزن کافی مشکل رہا۔ بمراہ نے اس سیزن میں محض 4 وکٹیں حاصل کیں، جو 2015 کے بعد ان کا سب سے کم ترین ریکارڈ ہے جب انہوں نے صرف چار میچز کھیل کر تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اگرچہ ان کا اکانومی ریٹ 8.37 رہا، لیکن وہ وکٹیں لینے میں ناکام رہے۔ اس پر بات کرتے ہوئے بیٹنگ کوچ نے بتایا کہ بمراہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ایک معمولی انجری کا شکار تھے، جس کی وجہ سے وہ اپنی سو فیصد فٹنس پر نہیں تھے۔

سیزن کے آخری میچ میں بمراہ کو الیون کا حصہ نہ بنانے کے فیصلے پر پولارڈ نے واضح کیا کہ یہ ایک ہوشمندانہ فیصلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آخری میچ کو کھیلنے سے ہمیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہونا تھا کیونکہ ہم پہلے ہی پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو چکے تھے۔ بمراہ ہندوستانی کرکٹ کا ایک انمول اثاثہ ہیں اور ان کی فٹنس کو مینیج کرنا ہماری اولین ترجیح تھی۔ اس لیے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا اور بمراہ کو آرام دینا ایک درست فیصلہ تھا۔

مستقبل کا لائحہ عمل اور گہرا جائزہ

ممبئی انڈینز نے آخری بار 2020 میں آئی پی ایل کا ٹائٹل جیتا تھا، اور تب سے اب تک فرنچائز چیمپئن شپ جیتنے میں ناکام رہی ہے۔ پولارڈ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹیم ایک طویل عرصے سے ٹائٹل سے دور ہے اور یہ حقیقت اب تسلیم کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مایوس کن مہم کے بعد ٹیم کی مینجمنٹ اور کھلاڑی سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور ایک تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

تاہم، پولارڈ کا خیال ہے کہ ابھی میچ کے فوراً بعد جذباتی فیصلے کرنے کا وقت نہیں ہے۔ ہر ایک کو تھوڑا وقت اور ذہنی سکون چاہیے تاکہ ٹھنڈے دماغ سے یہ سوچا جا سکے کہ چیزیں کہاں غلط ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس میں بیٹھ کر جلد بازی میں فیصلے سنانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہوگا، اس لیے ایک مکمل اور گہرا جائزہ ہی ممبئی انڈینز کو دوبارہ کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

Ishaan Brooks
Ishaan Brooks

Ishaan Brooks brings charisma and precision to cricket broadcasting, blending his Caribbean flair with a sharp analytical mind. A former semi‑professional player turned commentator, Ishaan’s firsthand experience on the pitch gives his analysis a unique authenticity. He is known for his engaging on‑field reports and his ability to translate complex game dynamics into clear, relatable insights for viewers. Ishaan has covered major international tournaments and is admired for his professionalism and warmth during player interviews. His passion for the sport and commitment to fair, balanced commentary have earned him respect across the cricketing community.