Shaheen Afridi on Pakistan quicks losing speed: ‘Machines deteriorate with time’ – شاہین آفریدی کا پاکستانی فاسٹ بولرز کی گرتی ہوئی رفتار پر تبصرہ
پاکستان کرکٹ میں رفتار کا بحران
پاکستان کرکٹ کی تاریخ ہمیشہ تیز رفتار گیند بازوں سے عبارت رہی ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی فاسٹ بولرز کی دھاک بیٹھی رہی ہے، لیکن حال ہی میں ایک تشویشناک رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ قومی ٹیم کے بولرز کی رفتار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ راولپنڈی میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے آغاز سے قبل، پاکستان کے ون ڈے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے اس معاملے پر کھل کر بات کی ہے۔
حالیہ ٹیسٹ سیریز میں بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کی کارکردگی اور خاص طور پر بولنگ کی رفتار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ جہاں بنگلہ دیشی بولرز 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیندیں کروا رہے تھے، وہیں پاکستانی بولرز کی رفتار 130 کلومیٹر کے ارد گرد گھومتی نظر آئی، جس کی وجہ سے ٹیم کو وکٹیں حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مشینیں وقت کے ساتھ کمزور ہوتی ہیں: شاہین آفریدی
شاہین آفریدی کا ماننا ہے کہ مسلسل کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے بولرز کے جسم تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘انسان بھی مشین کی طرح ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ مشینری میں ٹوٹ پھوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔’ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے بولرز ہر وقت ٹیم کے لیے دستیاب رہتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں آرام کا موقع نہیں مل پاتا۔ قومی کرکٹ اکیڈمی (NCA) اب اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ایک خصوصی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے تاکہ بولرز کی رفتار کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
شاہین نے بنگلہ دیشی فاسٹ بولر ناہید رانا کی تعریف کی جو مستقل 140 کلومیٹر سے زائد کی رفتار سے بولنگ کر رہے تھے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ابھی ان کا کیریئر نیا ہے اور ان پر بوجھ کم ہے۔ پاکستانی بولرز کے لیے اب مینجمنٹ مختلف فارمیٹس میں روٹیشن پالیسی اپنا رہی ہے تاکہ کھلاڑی تروتازہ رہ سکیں۔
محمد رضوان کی ٹیم سے ڈراپ ہونے پر ردعمل
ایک اور اہم معاملہ محمد رضوان کو ون ڈے اسکواڈ سے ڈراپ کرنے کا ہے۔ رضوان، جو اس سائیکل میں پاکستان کے دوسرے کامیاب ترین بلے باز رہے ہیں، انہیں ٹیم سے باہر کرنے پر شائقین کرکٹ حیران ہیں۔ تاہم، شاہین آفریدی نے واضح کیا کہ رضوان کے لیے دروازے بند نہیں ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں جلد بازی میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے۔ بابر اعظم اور میں خود بھی ماضی میں ٹیم سے باہر رہ چکے ہیں، لیکن ہم نے واپسی کی۔ رضوان سے میری بات ہوئی ہے اور یہ فیصلہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے اور ورلڈ کپ کے لیے ایک وسیع پول تیار کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔’
مستقبل کی حکمت عملی
پاکستان کرکٹ بورڈ اب 2026 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ سلیکٹرز اس بات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ نئے ٹیلنٹ کو سامنے لایا جائے تاکہ ٹیم کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ ناہید رانا جیسے بولرز اور ٹیم میں نئے آنے والے کھلاڑی جیسے روحیل نذیر، عرفات منہاس اور احمد دانیال کا انتخاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
پاکستان کی ٹیم اب لاہور میں ہونے والے اگلے دو ون ڈے میچوں کی تیاری کر رہی ہے، جہاں شائقین کو امید ہے کہ قومی بولرز اپنی کھوئی ہوئی رفتار اور فارم کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ شاہین آفریدی کی قیادت میں ٹیم انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ورک لوڈ مینجمنٹ ہی رفتار کے اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔
کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری رہے گی کہ کیا واقعی ورک لوڈ مینجمنٹ سے رفتار میں اضافہ ممکن ہے، یا پھر پاکستانی کرکٹ کو نئے تیز رفتار فاسٹ بولرز کی تلاش میں مزید محنت کرنی ہوگی۔ فی الحال، کپتان اور ٹیم انتظامیہ کا پورا زور کھلاڑیوں کی فٹنس اور ان کی تکنیکی صلاحیتوں کو نکھارنے پر ہے۔
