Your Source for Cricket Stats & Insights
News

Solanki ‘would have liked to have gone one step further’ but still ‘immensely proud’ of GT

Priya Patel · · 1 min read

آئی پی ایل 2026 کا فائنل اور گجرات ٹائٹنز کا سفر

آئی پی ایل 2026 کے فائنل میں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے ہاتھوں شکست کے بعد، گجرات ٹائٹنز (GT) کے کیمپ میں مایوسی کے بجائے وقار اور اطمینان کا ماحول نظر آیا۔ ٹیم کے ڈائریکٹر کرکٹ وکرم سولنکی نے تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم فائنل میں دوسری بہترین ٹیم ثابت ہوئی، لیکن انہوں نے اپنی ٹیم کی مجموعی مہم پر فخر کا اظہار کیا۔

وکرم سولنکی کا موقف اور جذباتی وابستگی

وکرم سولنکی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ‘میں سب سے پہلے آر سی بی کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ ان کی مہم شاندار رہی ہے۔ انہوں نے لیگ مرحلے میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی اور پھر ہمیں دو بار شکست دی، ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ جہاں تک ہماری اپنی مہم کا تعلق ہے، ہم بطور گروپ اپنی کامیابیوں پر انتہائی فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ Solanki ‘would have liked to have gone one step further’ but still ‘immensely proud’ of GT ہیں۔’

تھکاوٹ اور سفر کی مشکلات

فائنل تک پہنچنے کا سفر گجرات ٹائٹنز کے لیے آسان نہیں تھا۔ کوالیفائر 1 میں آر سی بی سے شکست کے بعد، ٹیم کو پانچ دنوں میں تین میچ کھیلنے پڑے۔ انہیں احمد آباد پہنچنے کے لیے بہت کم وقت ملا، اور فائنل کے لیے تیاری کا وقت 20 گھنٹوں سے بھی کم تھا۔ تاہم، سولنکی نے تھکاوٹ کو شکست کا بہانہ بنانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا، ‘میں اس حقیقت سے منہ نہیں موڑنا چاہتا کہ آر سی بی نے ہمیں ہرایا ہے۔ ہمیں سر اٹھا کر چلنا چاہیے اور اپنی کارکردگی پر فخر کرنا چاہیے۔’

ٹاپ آرڈر پر انحصار کے سوالات

جب سولنکی سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا گجرات ٹائٹنز کا انحصار صرف شبمن گل، بی سائی سدرشن اور جوس بٹلر پر تھا، تو وہ قدرے برہم نظر آئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فائنل تک پہنچنے کے لیے پوری ٹیم کی کوشش شامل تھی۔ گل اور سائی سدرشن نے 700 سے زائد رنز بنائے اور 11 سنچری پارٹنرشپ کا ریکارڈ قائم کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیم نے ایک متوازن مہم چلائی۔

مڈل آرڈر کا بحران اور حکمت عملی

فائنل میں نیشانت سندھو کو تیسرے نمبر پر بھیجنا ایک ایسا فیصلہ تھا جو کارگر ثابت نہ ہو سکا۔ سولنکی نے وضاحت کی کہ یہ ہیڈ کوچ آشیش نہرا کا فیصلہ تھا جو کپتان کے ساتھ مشاورت کے بعد لیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچ کی نوعیت کو سمجھنے میں بھی شاید ٹیم سے تھوڑی غلطی ہوئی۔ 200 سے زائد رنز کا ہدف دینے کے بجائے، 180 کے قریب کا اسکور اس پچ پر چیلنجنگ ثابت ہو سکتا تھا۔

ویرات کوہلی کی تعریف

آخر میں، جب سولنکی سے ویرات کوہلی کی شاندار بیٹنگ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک کھلاڑی کی حیثیت سے کوہلی کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ہم سب اچھے کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر خوش قسمت محسوس کرتے ہیں، اور ویرات ایک غیر معمولی کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے شاندار اننگز کھیلی، حالانکہ اس وقت میں اس کا جشن نہیں منا رہا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے بہترین کھیل پیش کیا۔’

گجرات ٹائٹنز کا یہ سفر اگرچہ فائنل میں رک گیا، لیکن وکرم سولنکی کا ماننا ہے کہ ٹیم نے اپنی شناخت بنائی ہے اور وہ مستقبل میں مزید مضبوطی کے ساتھ واپس آئے گی۔

Avatar photo
Priya Patel

Priya Patel writes detailed cricket statistics articles, focusing on batting averages, strike rates, player milestones, and IPL records.