اسپینسر جانسن کا عزم: انجری کے بعد واپسی، رفتار میں مزید اضافے کا ہدف
اسپینسر جانسن کی کرکٹ میدان میں واپسی
آسٹریلیا کے ابھرتے ہوئے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر اسپینسر جانسن ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ کرکٹ کے میدانوں میں متحرک ہو چکے ہیں۔ کمر کی شدید تکلیف کے باعث ایک سال تک کھیل سے دور رہنے والے جانسن نے لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف چنئی سپر کنگز (CSK) کے لیے اپنے ڈیبیو میچ میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے بولنگ کر کے سب کو متاثر کیا ہے۔
انجری کا خوف اور حوصلہ افزا واپسی
ایک سال کے طویل وقفے کے بعد واپسی پر جانسن کو خدشات لاحق تھے، لیکن میچ کے دوران ان کی کارکردگی نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی فارم دوبارہ حاصل کر رہے ہیں۔ لکھنؤ میں مچل مارش اور جوش انگلس کے خلاف ان کی رفتار اور لائن لینتھ خاصی مؤثر رہی۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں گیند کو اندر کی جانب سوئنگ کر کے بلے بازوں کو شدید دباؤ میں رکھا۔ جانسن نے اپنے چار اوورز کے کوٹے میں 39 رنز کے عوض ایک اہم وکٹ حاصل کی۔
رفتار بڑھانے کا عزم
اپنے اگلے میچ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جانسن نے کہا، ‘میں 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے میں مزید میچز کھیلوں گا، میرا اعتماد بڑھے گا اور میں مزید آرام دہ محسوس کروں گا۔ پچھلے دو تین مہینوں میں نیٹ پریکٹس کے دوران میں نے کافی محنت کی ہے، اور اب میدان میں اترنے کے بعد مجھے اپنی ردھم واپس ملتی نظر آ رہی ہے۔’
تکنیکی بہتری اور کوچنگ کا کردار
جانسن نے اپنی بولنگ ایکشن میں بہتری لانے کے لیے آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر ریان ہیرس کے ساتھ کام کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کمر کی انجری سے بچنے کے لیے تکنیک میں معمولی تبدیلیاں ضروری تھیں۔ ‘ہم نے اس بات پر توجہ دی کہ میری باڈی موومنٹ سیدھی رہے اور کمر پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔ رائنو (ریان ہیرس) کے ساتھ کام کرنے سے مجھے کافی مدد ملی۔ اس کے علاوہ چنئی سپر کنگز کے بولنگ کوچ ایرک سائمنز نے میری فٹنس کو آئی پی ایل کے معیار کے مطابق لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔’
CSK کی نمائندگی کرنا ایک اعزاز
جانسن نے چنئی سپر کنگز کے کپتان رتوراج گائیکواڈ اور کوچنگ اسٹاف کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں کھیلنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے۔ ‘یہ دنیا کا بہترین ٹورنامنٹ ہے اور میں دنیا کی بہترین فرنچائز کے لیے کھیل رہا ہوں۔ میں نے میدان میں کوشش کی کہ ہر لمحے کو انجوائے کروں کیونکہ کرکٹ میرا جنون ہے اور سی ایس کے کے لیے کھیلنا ایک ناقابل یقین تجربہ ہے۔’
آگے کا راستہ
جیمی اوورٹن کی انجری کے بعد جانسن پر ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ چنئی سپر کنگز کے بولنگ اٹیک کو ایک نئی جہت فراہم کریں۔ جانسن کا یہ عزم کہ وہ وقت کے ساتھ مزید بہتر اور تیز تر ہوتے جائیں گے، سی ایس کے کے مداحوں کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔ اگر وہ اسی رفتار اور درستگی کے ساتھ بولنگ جاری رکھتے ہیں، تو وہ پلے آف کی دوڑ میں اپنی ٹیم کے لیے ایک اہم اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسپینسر جانسن کی واپسی صرف ایک کھلاڑی کی واپسی نہیں بلکہ ایک باصلاحیت بولر کا اپنے کیریئر کو نئے سرے سے عروج پر لے جانے کا عہد ہے۔ کرکٹ کے شائقین اب اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا یہ تیز رفتار بولر آنے والے میچوں میں اپنی رفتار کے نئے ریکارڈز قائم کر پائے گا یا نہیں۔
