Tendulkar: Sooryavanshi is ‘truly special’ اور کرکٹ کا نیا ابھرتا ستارہ
کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا طلوع: ویبھو سوریہ ونشی
کرکٹ کی تاریخ میں بہت کم ایسے کھلاڑی آئے ہیں جنہوں نے اپنی آمد کے ساتھ ہی دنیائے کرکٹ کو حیران کر دیا ہو۔ 15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی بلاشبہ انہی چند کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ آئی پی ایل 2026 میں راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے جس طرح کی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، اس نے ماہرین اور لیجنڈز کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
آئی پی ایل 2026 میں ریکارڈ توڑ کارکردگی
ویبھو سوریہ ونشی نے آئی پی ایل 2026 میں 776 رنز بنا کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 237.31 رہا، جو جدید کرکٹ کے تقاضوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ متاثر کن بات ان کے 72 چھکے ہیں، جنہوں نے کرس گیل کے ایک سیزن میں سب سے زیادہ چھکوں (59) کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ یہ کارکردگی ایک نو عمر کھلاڑی کے لیے غیر معمولی ہے۔
سچن تندولکر کی نظر میں ویبھو
ممبئی میں منعقدہ کرک انفو آنرز کے موقع پر سچن تندولکر، جنہیں 21ویں صدی کا بہترین بین الاقوامی بلے باز قرار دیا گیا، نے ویبھو کی تعریف کرتے ہوئے کہا: Tendulkar: Sooryavanshi is ‘truly special’۔ تندولکر نے ان کی تکنیک، خاص طور پر ان کی کلائیوں کے استعمال اور بال کو گراؤنڈ کے ہر کونے میں کھیلنے کی صلاحیت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ویبھو محض چھکے نہیں مار رہے بلکہ وہ گیند کی لائن اور لینتھ کو دوسروں کی نسبت بہت جلد پہچان لیتے ہیں۔
قدرتی انداز کو برقرار رکھنے کی تلقین
سچن تندولکر نے اس بات پر زور دیا کہ ویبھو کے قدرتی انداز کو چھیڑنا نہیں چاہیے۔ تندولکر کا ماننا ہے کہ اگر کسی کھلاڑی کے قدرتی ردعمل میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تو اس کا کھیل متاثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ‘میں اسے صرف وہی رہنے دوں گا جو وہ ہے۔ اسے اپنی آزادی کے ساتھ بیٹنگ کرنے دی جانی چاہیے۔’
ٹیسٹ کرکٹ اور مستقبل کے چیلنجز
اگرچہ ہر کوئی ویبھو کو مستقبل میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے، لیکن تندولکر کا مشورہ ہے کہ اسے جلد بازی کا شکار نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ عمر کے ساتھ ساتھ سیکھنے کا نام ہے، اور ویبھو جیسے باصلاحیت کھلاڑی کو سپورٹ اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، نہ کہ غیر ضروری دباؤ کی۔ تندولکر نے مزید کہا کہ سلیکشن کے معاملات کو ذمہ دار لوگوں (سلیکٹرز) پر چھوڑ دینا چاہیے اور ویبھو کو صرف کرکٹ سے لطف اندوز ہونے دینا چاہیے۔
ایک روشن مستقبل
ویبھو سوریہ ونشی کا سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر انہیں درست ماحول اور صحیح رہنمائی ملتی رہی، تو وہ آنے والے وقت میں عالمی کرکٹ کے بڑے ناموں میں شمار ہوں گے۔ تندولکر جیسے لیجنڈ کی جانب سے ملنے والی یہ تعریف ویبھو کے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں، لیکن اب اصل چیلنج اس تسلسل کو برقرار رکھنے اور کرکٹ کی باریکیوں کو سیکھنے کا ہے۔
مجموعی طور پر، ویبھو کا کھیل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کرکٹ میں ٹیلنٹ کی کوئی عمر نہیں ہوتی، بس ضرورت ہوتی ہے تو اسے صحیح طریقے سے نکھارنے اور اس پر اعتماد کرنے کی۔ ہم سب کی نظریں اس نوجوان کھلاڑی پر رہیں گی کہ وہ اپنے کیریئر کے اگلے مراحل میں کیسا کھیل پیش کرتا ہے۔
