ویبھو سوریہ ونشی کا انڈیا ڈیبیو: آئی پی ایل 2026 میں دھماکہ خیز کارکردگی کے بعد رواں ماہ امکان؟
بھارتی کرکٹ کی دنیا میں اس وقت ایک نام سب کی زبان پر ہے – ویبھو سوریہ ونشی۔ یہ نوجوان بلے باز اپنی دھماکہ خیز اور بے خوف کارکردگی سے آئی پی ایل 2026 میں چھایا ہوا ہے اور کرکٹ حلقوں میں اس کے قومی ٹیم میں جلد ڈیبیو کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ راجستھان رائلز کے لیے کھیلتے ہوئے، ویبھو نے نہ صرف شائقین کو متاثر کیا ہے بلکہ سابق بھارتی ہیڈ کوچ روی شاستری جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی بھی توجہ حاصل کی ہے، جو محسوس کرتے ہیں کہ اس نوجوان کو جلد از جلد قومی سیٹ اپ میں شامل کیا جانا چاہیے۔
ویبھو سوریہ ونشی کی آئی پی ایل میں دھماکہ خیز کارکردگی
ویبھو سوریہ ونشی نے رواں سال کے شروع میں آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھارت کی کامیاب مہم کے دوران اپنی شاندار کارکردگی سے سرخیوں میں جگہ بنائی تھی۔ اس عالمی کپ میں اس کی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوا، جہاں اس نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے سب کو حیران کر دیا۔ تاہم، اس نے آئی پی ایل 2026 میں راجستھان رائلز کے لیے کھیل کر اپنی صلاحیتوں کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اس لیفٹ ہینڈڈ بلے باز نے اس سیزن میں بے خوف کرکٹ کھیلی ہے اور بہت کم وقت میں ہی سب سے خطرناک بلے بازوں میں سے ایک بن گیا ہے۔
اب تک 11 اننگز میں، ویبھو نے 236.56 کے سٹرائیک ریٹ سے 440 رنز بنائے ہیں، جو کہ اس کی بیٹنگ کی تیزی اور تاثیر کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نے اس سیزن میں 40 چھکے بھی لگائے ہیں، جو آئی پی ایل 2026 میں کسی بھی بلے باز کے سب سے زیادہ چھکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف اس کی طاقتور ہٹنگ کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ کس قدر دباؤ میں بھی اپنی قدرتی کھیل کو جاری رکھ سکتا ہے۔ اس کی جارحانہ انداز اور کم عمری میں اعتماد نے عالمی کرکٹ ماہرین کو بہت متاثر کیا ہے، اور بہت سے لوگ بھارتی سلیکٹرز سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس نوجوان گن کو سیدھا بھارت کے ٹی 20 آئی اسکواڈ میں شامل کیا جائے۔
روی شاستری کی ویبھو سوریہ ونشی کے لیے پرزور حمایت
بھارتی کرکٹ کے سب سے کامیاب ہیڈ کوچز میں سے ایک روی شاستری نے ویبھو سوریہ ونشی کی آئی پی ایل 2026 میں کارکردگی پر کھل کر تعریف کی ہے۔ شاستری کا ماننا ہے کہ ٹی 20 کرکٹ وہ بہترین فارمیٹ ہے جہاں ویبھو کو جلد از جلد متعارف کرایا جا سکتا ہے کیونکہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے تیار ہے۔
آئی سی سی ریویو پر میزبان سنجنا گنیسن سے گفتگو کرتے ہوئے، روی شاستری نے کہا، “دروازہ تین چوتھائی کھلا ہو گا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، کیونکہ اگر آپ کسی نوجوان کو جلد از جلد سیٹ اپ میں شامل کرنا چاہتے ہیں، تو یہ کھیل کا ٹی 20 فارمیٹ ہے، اور وہ کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہے۔ یہ لڑکا اس وقت عالمی کرکٹ کی بہت سی ٹیموں میں جگہ بنا سکتا ہے۔ بس جب آپ جوانی کا جوش دیکھتے ہیں اور وہ جوش اس کے چہرے پر نظر آتا ہے۔”
شاستری نے مزید کہا کہ ویبھو کی عمر کے بارے میں سوالات (15، 16، یا 14) کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اس کے نزدیک اہم بات یہ ہے کہ وہ اس وقت کس طرح بلے بازی کر رہا ہے اور اپنے سے دوگنی یا ڈھائی گنی عمر کے باؤلرز کا مقابلہ کس طرح کر رہا ہے۔ اس سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سابق کپتان نے یہ بھی محسوس کیا کہ بھارت کا آئندہ جون میں آئرلینڈ کا دورہ ویبھو سوریہ ونشی کو ڈیبیو دینے کا بہترین موقع ہو سکتا ہے، جو اسے بھارت کا اب تک کا سب سے کم عمر کھلاڑی بھی بنا سکتا ہے، تاکہ اسے 2028 میں ہونے والے اگلے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا جا سکے۔ شاستری نے اپنے الفاظ میں زور دیتے ہوئے کہا، “بہت سے لوگ پوچھیں گے، کیا وہ 15 کا ہے؟ کیا وہ 16 کا ہے؟ کیا وہ 14 کا ہے؟ مجھے پرواہ نہیں ہے۔ میں بس دیکھتا ہوں کہ وہ اس وقت کس طرح بلے بازی کر رہا ہے اور وہ کس طرح اپنے سے دوگنی یا ڈھائی گنی عمر کے تمام باؤلرز کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اسے فرق نہیں پڑتا۔ لہذا، مجھے لگتا ہے کہ وہ بہت زیادہ زیر غور ہے۔ اور جب آپ کے پاس آئرلینڈ کے دورے اور یہ سب کچھ اب ہو رہا ہے، تو میں اسے فوراً دیکھوں گا۔”
آئندہ سیڑھیاں اور مستقبل کے امکانات
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ویبھو کو حال ہی میں سری لنکا کے دورے کے لیے پہلی بار انڈیا اے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وہ اب اگلے ماہ انڈیا اے کے ساتھ سری لنکا کا سفر کرے گا، جہاں افغانستان کے ساتھ ایک سہ فریقی سیریز بھی کھیلی جائے گی۔ یہ اس کے لیے ایک اور اہم قدم ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر ثابت کر سکے۔ اگر وہ اپنی موجودہ فارم کو برقرار رکھتا ہے، تو اس کے جلد ہی بھارتی سینئر ٹیم کے لیے ڈیبیو کرنے کے امکانات بہت روشن ہیں۔
ویبھو سوریہ ونشی کی کہانی محض ایک نوجوان ٹیلنٹ کی نہیں ہے، بلکہ یہ اس عزم اور بے خوفی کی عکاسی کرتی ہے جو اسے کرکٹ کے میدان میں ایک منفرد مقام دلوا رہی ہے۔ بھارتی کرکٹ کا مستقبل ایسے ہی نوجوان ستاروں کے دم سے روشن ہے، اور ویبھو بلاشبہ ان میں سے ایک ہے۔ شائقین اور ماہرین سب اس انتظار میں ہیں کہ یہ نوجوان کب نیلے رنگ کی جرسی میں بین الاقوامی سطح پر اپنی چمک دکھاتا ہے۔
