Vijay Shankar Joins Lanka Premier League Days After IPL Retirement – وجے شنکر آئی پی ایل ریٹائرمنٹ کے بعد لنکا پریمیئر لیگ میں شامل
وجے شنکر کا نیا سفر: آئی پی ایل کے بعد اب لنکا پریمیئر لیگ
کرکٹ کی دنیا میں تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوتی ہیں، اور اس بار خبروں کی سرخیوں میں سابق ہندوستانی آل راؤنڈر وجے شنکر ہیں۔ 35 سالہ وجے شنکر، جنہوں نے حال ہی میں آئی پی ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، اب لنکا پریمیئر لیگ (LPL) کے چھٹے سیزن میں کینڈی رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔
ریٹائرمنٹ اور نئے مواقع کی تلاش
وجے شنکر نے 22 مئی کو اپنے کیریئر کے ایک اہم موڑ پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ اب دنیا بھر کی مختلف لیگز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنے جذباتی پیغام میں شنکر نے لکھا: کرکٹ میری زندگی ہے۔ میں نے 10 سال کی عمر میں کھیل شروع کیا تھا، اور 25 سال بعد، میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے کرکٹ کے ہر سطح پر نمائندگی کی۔ ملک کے لیے کھیلنا میرے لیے ہمیشہ فخر کا باعث رہے گا۔
آئی پی ایل کیریئر اور سی ایس کے سے علیحدگی
وجے شنکر، جنہوں نے 2018-19 کے دوران ہندوستان کی ورلڈ کپ ٹیم کا حصہ بن کر ملک کی نمائندگی کی، آئی پی ایل میں کئی ٹیموں کے لیے کھیل چکے ہیں۔ ان کا آخری پڑاؤ چنئی سپر کنگز (CSK) کے ساتھ تھا، جہاں 2025 کا سیزن ان کے لیے کچھ خاص نہیں رہا۔ صرف 118 رنز کی کارکردگی کے بعد، مین ان ییلو نے انہیں ریلیز کر دیا تھا، جس کے بعد وہ نیلامی میں کسی ٹیم کی توجہ حاصل نہیں کر سکے۔
لنکا پریمیئر لیگ (LPL) سیزن 6 کی تیاری
LPL کا چھٹا ایڈیشن 17 جولائی سے شروع ہونے والا ہے، جس کے لیے پلیئرز ڈرافٹ یکم جون کو منعقد ہوگا۔ اس سال کے ڈرافٹ میں 21 ممالک سے 650 سے زائد غیر ملکی کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کرائی ہے۔ وجے شنکر کا کینڈی رائلز میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اب اپنی توجہ عالمی کرکٹ لیگز پر مرکوز کر رہے ہیں۔ شنکر کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ صرف سری لنکا ہی نہیں، بلکہ بی پی ایل، کینیڈا ٹی 20 اور ایم ایل سی جیسی لیگز میں بھی نظر آ سکتے ہیں۔
ہندوستانی کھلاڑیوں کی شرکت اور بورڈ کے قوانین
بی سی سی آئی کے سخت قوانین کے تحت، فعال ہندوستانی کھلاڑیوں کو بیرون ملک لیگز میں کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وجے شنکر جیسے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی لیگز کا حصہ بننے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ سے جلد ریٹائرمنٹ لینا پڑتی ہے۔ ماضی میں صرف مناف پٹیل اور عرفان پٹھان جیسے چند ہندوستانی کھلاڑی ہی LPL کا حصہ بن پائے ہیں۔
مستقبل پر ایک نظر: کیا کولنگ آف پیریڈ آئے گا؟
وجے شنکر کے اس اقدام نے ایک بار پھر بی سی سی آئی کے کولنگ آف پیریڈ کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے۔ کچھ سال قبل بورڈ اس بات پر غور کر رہا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کھلاڑیوں کو ایک سال تک بیرون ملک لیگز میں کھیلنے سے روکا جائے، تاکہ کھلاڑی قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے سے گریز کریں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وجے شنکر کا یہ فیصلہ عالمی کرکٹ میں ہندوستانی کھلاڑیوں کے مستقبل کے لیے کس قسم کے نئے ضوابط کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
نتیجہ
ایک ایسے کھلاڑی کے لیے جس نے ہندوستان کی نمائندگی کی ہو، یہ فیصلہ کافی جرات مندانہ ہے۔ شائقین اب منتظر ہیں کہ آیا وجے شنکر لنکا پریمیئر لیگ میں اپنی پرانی فارم واپس لا پائیں گے یا نہیں۔ کرکٹ کا میدان ان کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھول چکا ہے، اور آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ سفر ان کے لیے کتنا کامیاب رہتا ہے۔
