آئی پی ایل 2026: کے کے آر کے کپتان اجنکیا راہانے پر حامیوں کا غصہ، سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان
آئی پی ایل 2026 کے دوران کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے کپتان اجنکیا راہانے کی مایوس کن کارکردگی نے نہ صرف میچ کا رخ متاثر کیا بلکہ ٹیم کے حامیوں کو بھی بے حد مایوس کردیا۔ کے کے آر کے خلاف گجرات ٹائیٹنز (جی ٹی) کے میچ میں راہانے صرف 14 گیندوں پر 14 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان پر شدید تنقید کی گئی۔
راہانے کی ناکامی، حامی مایوس
میچ کے آغاز میں ہی، راہانے کو ایک اہم موقع دیا گیا تھا کیونکہ وہ اوپننگ کر رہے تھے۔ تاہم، گجرات کے بولر محمد سراج نے ان کی کمزوری کو بھانپتے ہوئے 138.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک شارپ ان سوئنگ کی گیند پھینکی، جو سیم پر جھک کر اندر آگئی۔ راہانے نے بغیر مناسب فٹ موومینٹ کے گیند کو کراس بیٹ کرنے کی کوشش کی، لیکن گیند بیٹ اور بازو کے درمیان نکل کر سٹمپس اڑا دیے۔
اس آؤٹ کے بعد کے کے آر صرف 14 رنز پر وکٹ گنوا بیٹھی اور پاور پلے کے دوران صرف 56 رنز بنا سکی۔ کئی مداحوں نے سوال اٹھایا کہ ٹیم کا کپتان اور اوپنر اس قدر سست کیوں کھیل رہا ہے؟
کپتانی کے دور میں کمزور کارکردگی
آئی پی ایل 2026 تک راہانے نے 12 میچوں میں صرف 251 رنز بنائے ہیں، جو 22.81 کی اوسط اور 126.76 کی سٹرائیک ریٹ کے برابر ہے۔ کے کے آر کو اس وقت 11 میچوں میں صرف 4 جیت ملی ہے، جس کی وجہ سے پلے آف کے امکانات تقریباً ختم ہوچکے ہیں۔ اس تناظر میں، حامی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا راہانے اب بھی ٹیم کی قیادت کے قابل ہیں؟
راہانے کا آئی پی ایل کیریئر 210 میچوں میں 5283 رنز کے ساتھ قابلِ فخر ہے، جس میں 2 سنچریاں اور 34 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ تاہم، ٹی ٹوئنٹی کی تیز رفتار دنیا میں ان کی کھیلنے کی رفتار اب پیچھے رہ چکی ہے۔
فین علین نے بچائی کے کے آر کی حالت
راہانے کے بعد، فین علین نے میدان میں جوش دکھایا اور محض 21 گیندوں پر 50 رنز کی شاندار پاری کھیلی، جس کی سٹرائیک ریٹ 250 سے زیادہ رہی۔ انہوں نے رشید خان اور جیسن ہولڈر کے خلاف حملہ کرتے ہوئے رنز کا سیلاب لا دیا۔ اُن کے ساتھ انکرش راغوونشنی نے بھی مستقل پوزیشن برقرار رکھی اور 9 اوورز میں ہی کے کے آر نے 100 رنز کا ہدف حاصل کرلیا۔
راہانے کا ٹیسٹ کیریئر اور موجودہ صورتحال
راہانے کو ہمیشہ ٹیسٹ کرکٹ کی دنیا میں بہترین بلے بازوں میں شمار کیا گیا ہے۔ 85 ٹیسٹ میچوں میں 5000 سے زائد رنز ان کی صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم، ٹی ٹوئنٹی کے ماحول میں ان کا اسٹائل اب کم مؤثر لگ رہا ہے۔
شہریاس ایئر کے بعد 2025 میں کپتانی سونپی گئی تھی، لیکن اب ناکامیوں کی وجہ سے 2027 کے لیے ان کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر مداحوں نے مزاحیہ انداز میں تبصرے کیے، جیسے “ریٹائر یا گو”، جبکہ کئی نے صاف کہا کہ کے کے آر کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
آئی پی ایل 2026 کا یہ موسم کے کے آر کے لیے یقیناً یادگار نہیں بنے گا، لیکن اس کا اصل سوال یہ ہے کہ کیا اجنکیا راہانے اب بھی اس ٹیم کی قیادت کر سکتے ہیں؟ جواب آنے والا ہے۔
