شکیب الحسن کی مشکلات میں اضافہ: سٹاک مارکیٹ سکینڈل میں ملوث ہونے کے الزامات
شکیب الحسن کی مشکلات میں مزید اضافہ
بنگلہ دیش کے مقبول ترین کرکٹر شکیب الحسن اس وقت ایک بڑے قانونی بحران کا شکار ہیں۔ اینٹی کرپشن کمیشن (ACC) کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق، شکیب الحسن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک گروہ کے ساتھ مل کر سٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھایا، جس کے نتیجے میں عام سرمایہ کاروں کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اس مالیاتی فراڈ میں سرمایہ کاروں کا کل نقصان 2.57 ارب ٹکہ (بنگلہ دیشی کرنسی) تک پہنچ چکا ہے۔ کیس کو مضبوط بنانے کے لیے، اینٹی کرپشن کمیشن کے افسران نے حال ہی میں سٹاک مارکیٹ ریگولیٹر کے دفتر سے اہم دستاویزات ضبط کر لی ہیں، جس سے شکیب الحسن کی اس معاملے میں مبینہ شمولیت کے ثبوت مزید ٹھوس ہو رہے ہیں۔
سٹاک مارکیٹ ہیرا پھیری کا نیٹ ورک کیسے کام کرتا تھا؟
جون 2023 میں درج کیے گئے اس مقدمے میں ایک منظم مجرمانہ سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق، اس گروہ کے مرکزی ملزم محمد ابول خیر ہیں، جو محکمہ کوآپریٹوز میں ڈپٹی رجسٹرار کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کے ساتھ 14 دیگر افراد نے مختلف ٹریڈنگ اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے تین کمپنیوں—پیراماؤنٹ انشورنس، کرسٹل انشورنس اور سونالی پیپر—کے شیئرز کو نشانہ بنایا۔
یہ گروہ ‘فیک ٹریڈنگ’ اور ‘سیریز ٹرانزیکشنز’ کے ذریعے شیئرز کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر اوپر لے جاتا تھا۔ جب عام سرمایہ کاروں نے ان شیئرز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا، تو وہ دھوکے کا شکار ہو گئے اور جلدی منافع کمانے کی امید میں انہیں خرید لیا۔ قیمتوں کے عروج پر پہنچتے ہی، ملزمان نے اپنے شیئرز فروخت کر کے منافع سمیٹ لیا، جس سے عام لوگوں کو اربوں کا نقصان ہوا۔
شکیب الحسن کی مبینہ شمولیت اور اثرات
اینٹی کرپشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ شکیب الحسن کا اس فراڈ میں کردار محض ایک اتفاقی خریدار کا نہیں تھا۔ کمیشن کے مطابق، شکیب نے ابول خیر کے ساتھ ملی بھگت کی اور جان بوجھ کر ان ہیرا پھیری والے شیئرز میں سرمایہ کاری کی۔ شکیب کی شہرت نے اس دھوکے کو مزید مؤثر بنا دیا؛ جب عام سرمایہ کاروں نے دیکھا کہ ایک عالمی سٹار ان شیئرز کو خرید رہا ہے، تو انہوں نے اسے محفوظ سمجھ کر اپنی جمع پونجی لگا دی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، شکیب الحسن نے اس فراڈ کے ذریعے 29.5 ملین ٹکہ کا ذاتی منافع کمایا۔ اب ان پر تعزیراتِ پاکستان (بنگلہ دیشی پینل کوڈ) کے تحت دھوکہ دہی، جعل سازی، اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
کیا شکیب کی کرکٹ میں واپسی اب ناممکن ہے؟
شکیب الحسن کافی عرصے سے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل بنگلہ دیش واپسی اور ایک آخری سیریز کھیلنے کی خواہش کا اظہار کر رہے تھے۔ تاہم، موجودہ حالات نے اس خواب کو دھندلا دیا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے صدر تمیم اقبال پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ قانونی مسائل حل ہوئے بغیر شکیب کو قومی ٹیم میں دوبارہ شامل نہیں کیا جا سکتا۔
نومبر سے ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہیں، ان پر بیرون ملک سفر کی پابندی عائد ہے، اور اب نئے ثبوت سامنے آنے کے بعد ان کی واپسی کی راہ میں رکاوٹیں پہاڑ بن چکی ہیں۔
ایک اینٹی کرپشن سفیر سے ملزم تک کا سفر
اس معاملے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ شکیب الحسن خود کئی برسوں تک بنگلہ دیش سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور اے سی سی کے برانڈ ایمبیسیڈر رہ چکے ہیں۔ 2018 میں، انہوں نے ہی اے سی سی کی ‘106’ کرپشن رپورٹنگ ہاٹ لائن کا افتتاح کیا تھا۔ ایک ایسا شخص جو بدعنوانی کے خلاف مہم کا چہرہ تھا، آج خود بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔
قانونی شکنجہ مزید سخت
شکیب الحسن کی مشکلات صرف اے سی سی کے کیس تک محدود نہیں ہیں۔ اس سے قبل ستمبر 2023 میں، سٹاک مارکیٹ ریگولیٹر نے انہیں شیئرز میں ہیرا پھیری پر 5 ملین ٹکہ جرمانہ کیا تھا۔ وہ 5 اگست 2024 سے ملک سے باہر ہیں اور حکومت کے خاتمے کے بعد سے واپس نہیں لوٹے ہیں۔ اینٹی کرپشن کمیشن اب ان تمام دستاویزات اور ٹرانزیکشنز کا باریکی سے جائزہ لے رہا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اس مالیاتی جرم میں شکیب کا کلیدی کردار کیا تھا۔
