Your Source for Cricket Stats & Insights
Cricket News

بی سی سی آئی کا آئی پی ایل ٹیموں پر یقین کا اظہار، کھلاڑیوں کے فٹنس معاملات پر بات چیت

Priya Patel · · 1 min read

بی سی سی آئی نے آئی پی ایل ٹیموں کے فٹنس فیصلوں پر اظہار بے بسی کیا

بین الاقوامی کرکٹ کونسل بھارت (بی سی سی آئی) نے حال ہی میں کھلاڑیوں کے فٹنس معاملات پر آئی پی ایل فرنچائز کے فیصلوں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کے دوران ان ٹیموں پر کوئی براہ راست کنٹرول نہیں رکھتا۔ یہ بات گزشتہ دنوں اس وقت زیادہ توجہ کا مرکز بن گئی جب کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے سپنر ورن چکراورتی کو ان کے بائیں پاؤں میں بالائی فریکچر ہونے کے باوجود میچ میں کھلایا گیا۔

ورن چکراورتی کی صورتحال نے معاملات کو حساس بنایا

16 مئی کو گجرات ٹائٹنز کے خلاف میچ کے دوران ورن چکراورتی نے اپنے چار اوورز کا مکمل اسپیل ڈالا، حالانکہ وہ درد میں مبتلا تھے۔ کیمرے میں انہیں مختلف اوقات میں لنگڑاتے دیکھا گیا اور وہ باؤلنگ کے بعد واپس اپنی مارک پر جاتے ہوئے واضح طور پر بے چینی محسوس کر رہے تھے۔

اس معاملے کے بعد کھلاڑی کی صحت پر سوالیہ نشان لگ گئے، جس کے بعد بی سی سی آئی کو وضاحت کرنی پڑی۔

دیو جیت سائیکیا کا کھلے دلی سے اظہار

بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیو جیت سائیکیا نے ٹورنامنٹ کے دوران کھلاڑیوں کے فٹنس معاملات پر بورڈ کی محدود اختیارات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا، “آئی پی ایل کے حوالے سے، فرنچائز ہی کھلاڑیوں کی چوٹوں اور فٹنس کا نوٹس لیتے ہیں۔ البتہ، ہمارے سینٹر آف ایکسیلنس (CoE) کے فزیوتھراپسٹ بھی کھلاڑیوں کی نگرانی کرتے ہیں، ان کی ورک لوڈ پلاننگ کرتے ہیں اور فٹ رکھنے کے لیے گائیڈ لائنز فراہم کرتے ہیں۔ لیکن ٹورنامنٹ چلتے ہوئے ہم زیادہ مداخلت نہیں کر سکتے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ معاملہ بھارتی قومی ٹیم سے متعلق ہوتا تو بورڈ کا کنٹرول زیادہ ہوتا۔ “اگر یہ بھارتی ٹیم کا معاملہ ہوتا تو ہمارا کنٹرول زیادہ ہوتا۔ لیکن اب ہم فرنچائزز کو یہ آزادی دے رہے ہیں کہ وہ اپنے کھلاڑیوں پر فیصلے کریں۔ جب قومی ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب ہوگا تو ہم ان کی فٹنس کی سطح کا جائزہ لیں گے۔”

اجیت اگرکر: میڈیکل اسٹاف پر بھروسہ

چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی کھلاڑی خود ہی بہتر جانتے ہیں کہ وہ چوٹ کے باوجود میدان میں کھیل سکتے ہیں یا نہیں۔

“میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کون سا کھلاڑی معمولی چوٹ کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ جب قومی ٹیم کے لیے کھلاڑی کال ہوتا ہے، تو ہم فزیوتھراپسٹس اور ٹرینرز کی رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا، “اگر فزیو کہے کہ کوئی کھلاڑی فٹ ہے، تو میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اگر دو ہفتے بعد ہمیں بتایا جائے کہ روہت شرما یا ہردیک پانڈے فٹ نہیں ہیں، تو ہم مناسب فیصلہ کریں گے۔ لیکن ابھی ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ وہ ٹریک پر ہیں۔”

چونکا دینے والی فٹنس تشویشوں کا سلسلہ جاری

ورن چکراورتی کی چوٹ صرف ایک مثال ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے فریکچر شدہ ٹو کے ساتھ باؤلنگ جاری رکھی۔ اس کے علاوہ، پیسر ارشدیپ سنگھ کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ وہ معمولی چوٹ کا شکار ہوسکتے ہیں۔

دوسری طرف، تجربہ کار کھلاڑی روہت شرما اور ہردیک پانڈے کا افغانستان کے خلاف آئندہ سیریز کے لیے انتخاب کیا گیا ہے، تاہم ان کی شمولیت ان کی فٹنس کلیئرنس پر منحصر ہے۔

ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا فرنچائز ٹیمیں کھلاڑیوں کی صحت کے مقابلے میں فوری کامیابی کو ترجیح دے رہی ہیں؟ اور کیا بی سی سی آئی اس معاملے میں مستقبل میں زیادہ مضبوط کردار ادا کرسکتا ہے؟

Avatar photo
Priya Patel

Priya Patel writes detailed cricket statistics articles, focusing on batting averages, strike rates, player milestones, and IPL records.