آئی پی ایل 2026: کیا ایم ایس دھونی کو ایک بھی میچ کھیلے بغیر چنئی سپر کنگز سے پوری تنخواہ ملے گی؟
چنئی سپر کنگز کا مایوس کن سفر اور دھونی کی غیر موجودگی
\n
چنئی سپر کنگز (CSK) کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سفر انتہائی مایوس کن انداز میں اختتام پذیر ہوا۔ گجرات ٹائٹنز کے خلاف 89 رنز کی بھاری شکست نے نہ صرف چنئی کے پلے آف میں پہنچنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، بلکہ اس کے ساتھ ہی مہندر سنگھ دھونی کے مستقبل کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کا باب بھی فی الحال بند ہو گیا۔
\n
آئی پی ایل 2026 کے آغاز سے ہی دنیا بھر میں موجود دھونی کے مداح انہیں ایک بار پھر پیلی جرسی میں ایکشن میں دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ تاہم، پورے سیزن کے دوران ان کی دستیابی پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلاتے رہے۔ ہر گزرتے میچ کے ساتھ مداحوں کی امیدیں ٹوٹتی گئیں، اور بلاخر تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایم ایس دھونی نے چنئی سپر کنگز کے لیے پورے سیزن میں ایک بھی میچ نہیں کھیلا۔
\n\n
مہندر سنگھ دھونی کی انجری کی ٹائم لائن: وہ کیوں نہیں کھیل سکے؟
\n
دھونی کی انجری کا سلسلہ آئی پی ایل کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی چنئی سپر کنگز کے تربیتی کیمپ میں شروع ہو گیا تھا، جب سابق بھارتی کپتان کو ٹریننگ کے دوران پنڈلی (calf strain) کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی طور پر یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ وہ صرف پہلے دو ہفتوں کے میچز سے باہر رہیں گے اور جلد ہی میدان میں واپس آ جائیں گے۔
\n
لیکن ان کی بحالی کا عمل توقع سے کہیں زیادہ طویل ہو گیا، اور وہ کئی ہفتوں تک ٹیم سلیکشن کے لیے دستیاب نہ ہو سکے۔ مختلف ذرائع سے یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ دھونی سو فیصد فٹ نہیں تھے، اور فرنچائز ان کی عمر اور طویل المدتی فٹنس کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
\n
جب یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ وہ لیگ کے آخری مراحل میں واپسی کر سکتے ہیں، تو انہیں انگوٹھے کی انجری کا سامنا کرنا پڑا۔ چنئی سپر کنگز کے بیٹنگ کوچ مائیکل ہسی نے بعد میں تصدیق کی کہ دھونی صرف اسی صورت میں ٹیم کو جوائن کریں گے اگر سی ایس کے پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہی۔ لیکن گجرات ٹائٹنز کے خلاف شکست نے ان تمام امکانات کو ختم کر دیا۔
\n\n
کیا دھونی کو بغیر کوئی میچ کھیلے پوری تنخواہ ملے گی؟
\n
مداحوں کے ذہنوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا ایک بھی میچ کھیلے بغیر دھونی کو ان کا معاوضہ ملے گا؟ تو اس کا جواب ہے “جی ہاں!”۔ مہندر سنگھ دھونی کو آئی پی ایل 2026 کے سیزن کے لیے چنئی سپر کنگز کی جانب سے ان کی مکمل تنخواہ ادا کی جائے گی۔
\n\n
‘ان کیپڈ پلیئر’ (Uncapped Player) قانون کیا ہے؟
\n
دھونی کو سی ایس کے نے آئی پی ایل کے ‘ان کیپڈ پلیئر’ (uncapped player) قانون کے تحت 4 کروڑ روپے میں ریٹین کیا تھا۔ یہ قانون فرنچائزز کو ایسے بھارتی کھلاڑیوں کو کم قیمت پر برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لیے ہوئے پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزار لیا ہو۔
\n
چونکہ دھونی نے ایک فکسڈ فیس ریٹینشن کنٹریکٹ پر دستخط کیے تھے، اس لیے ان کی تنخواہ مکمل طور پر محفوظ ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ کتنے میچز کھیلتے ہیں۔ تاہم، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہیں فی میچ ملنے والی فیس (7.5 لاکھ روپے فی میچ) حاصل نہیں ہوگی۔
\n\n
میچ فیس کا نقصان اور انشورنس کوریج کا کردار
\n
اگرچہ دھونی کو ان کی بنیادی ریٹینشن فیس یعنی 4 کروڑ روپے ملیں گے، لیکن وہ میچ نہ کھیلنے کی وجہ سے اپنی اضافی میچ فیس سے محروم رہیں گے۔ اس کے علاوہ، آئی پی ایل کے تمام کھلاڑی مکمل طور پر بیمہ شدہ (insured) ہوتے ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی انجری کی وجہ سے میچز نہیں کھیل پاتا، تو انشورنس کمپنی فرنچائز کی مالی ذمہ داری کو پورا کرتی ہے، جس سے فرنچائز پر اضافی بوجھ نہیں پڑتا۔
\n\n
ایم ایس دھونی کی آئی پی ایل تنخواہ کا تاریخی سفر
\n
مہندر سنگھ دھونی کی آئی پی ایل تنخواہ میں وقت کے ساتھ ساتھ بہت بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں:
\n
- \n
- 2008 کا سیزن: افتتاحی سیزن میں چنئی سپر کنگز نے انہیں 6 کروڑ روپے میں خریدا تھا، جو اس وقت کی سب سے بڑی بولی تھی۔
- عروج کا دور: ان کی شاندار کارکردگی اور مقبولیت کے باعث یہ رقم وقت کے ساتھ بڑھتی گئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ سالانہ 15 کروڑ روپے کما رہے تھے۔
- موجودہ حیثیت: حالیہ برسوں میں ان کیپڈ پلیئر کیٹیگری میں آنے کے بعد ان کا معاوضہ کم ہو کر 4 کروڑ روپے مقرر کیا گیا۔
\n
\n
\n
\n\n
دھونی کے شاندار آئی پی ایل کیریئر پر ایک نظر
\n
اگر ہم دھونی کے مجموعی آئی پی ایل کیریئر پر نظر ڈالیں، تو انہوں نے چنئی سپر کنگز اور رائزنگ پونے سپر جائنٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 278 میچز کھیلے ہیں۔ ان میچوں میں انہوں نے 38.30 کی اوسط اور 137.45 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 5439 رنز اسکور کیے ہیں، جو انہیں آئی پی ایل کی تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑیوں اور کپتانوں کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔
