آئی پی ایل 2026 فائنل کی میزبانی چھن جانے کے بعد ایم چناسوامی اسٹیڈیم کی کایا پلٹنے کی تیاری
بنگلورو سے میزبانی کا اعزاز کیوں چھینا گیا؟
آئی پی ایل 2026 کا سیزن رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) اور ان کے ہوم گراؤنڈ، ایم چناسوامی اسٹیڈیم کے لیے کافی اتار چڑھاؤ والا ثابت ہوا۔ ابتدائی طور پر، یہ طے پایا تھا کہ بنگلورو آئی پی ایل 2026 کے فائنل کے ساتھ ساتھ پلے آف کے ایک میچ کی میزبانی بھی کرے گا، لیکن بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) نے عین وقت پر فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے فائنل کو احمد آباد منتقل کر دیا۔
اس تبدیلی کے بعد، کرناٹک اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (KSCA) نے اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کے لیے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بی سی سی آئی نے 8 مئی کو یہ تصدیق کی کہ فائنل اب نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جبکہ پلے آف کے دیگر میچز دھرم شالہ اور ملن پور میں منعقد کیے جائیں گے۔
ٹکٹ تنازعہ اور میزبانی کے حقوق کا خاتمہ
میزبانی کا حق کھونے کے پیچھے ایک اہم وجہ مفت ٹکٹوں (complimentary tickets) کا تنازعہ بنی۔ بی سی سی آئی سیکرٹری دیواجیت سیکیا کے مطابق، کے ایس سی اے کی جانب سے مفت ٹکٹوں کی غیر معمولی مانگ کے بعد پلے آف کی میزبانی کے حقوق پر خدشات پیدا ہوئے۔ مقامی سیاستدانوں کی جانب سے ٹکٹوں کی مانگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، حالانکہ ریاستی حکومت نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔
اسٹیڈیم کی کایا پلٹنے کا منصوبہ
کے ایس سی اے کے صدر وینکٹیش پرساد نے تصدیق کی ہے کہ ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں ری ڈیولپمنٹ کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد اسٹیڈیم کی گنجائش کو بڑھانا ہے، جو کہ غالباً بی سی سی آئی کی جانب سے میزبانی واپس لینے کی ایک بڑی وجہ تھی۔
وینکٹیش پرساد نے بتایا: “ہمیں دنیا بھر سے تقریباً 28 آرکیٹیکٹس کی جانب سے اسٹیڈیم کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے لیے تجاویز موصول ہوئی ہیں اور ہم ایک حتمی ٹیم کو شارٹ لسٹ کرنے کے عمل میں ہیں۔”
جدید سہولیات کی فراہمی
اسٹیڈیم کی نئی شکل میں صرف گنجائش بڑھانا ہی شامل نہیں ہے، بلکہ کے ایس سی اے مزید جدید اقدامات بھی کر رہا ہے:
- اسٹیڈیم میں نئی اور جدید ایل ای ڈی لائٹس کی تنصیب۔
- میسورو اور ہبلی کے کرکٹ اسٹیڈیمز میں بھی اپ گریڈیشن کا عمل۔
- عالمی معیار کے انفراسٹرکچر کی تعمیر تاکہ مستقبل میں بین الاقوامی میچوں کی میزبانی یقینی بنائی جا سکے۔
اگرچہ کے ایس سی اے نے فائنل کی میزبانی کھونے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا، لیکن ایسوسی ایشن نے بی سی سی آئی کے فیصلے کا احترام کیا ہے۔ اب تمام تر توجہ اسٹیڈیم کو ایک جدید ترین کرکٹ مرکز بنانے پر مرکوز ہے، تاکہ آنے والے برسوں میں شائقین کرکٹ کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
یہ پیش رفت نہ صرف بنگلورو کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ کے ایس سی اے اپنے اسٹیڈیم کو عالمی معیار کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے پرعزم ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ یہ ری ڈیولپمنٹ ایم چناسوامی اسٹیڈیم کی شان کو کس حد تک بحال کر پاتی ہے۔
