آئی سی سی کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں: ایک ہی ٹیسٹ میچ میں سرخ اور گلابی گیند کا استعمال اور دیگر اہم فیصلے
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قوانین میں انقلابی تبدیلیاں تجویز
کرکٹ کی تاریخ میں قوانین اور ضابطوں کا ارتقا ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے۔ کھیل کو مزید سنسنی خیز، شائقین کے لیے پرکشش اور موسم کی خرابی یا خراب روشنی کے اثرات سے بچانے کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اب چند بڑے اور غیر روایتی فیصلے کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کرک بز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، آئی سی سی کے پلیئنگ کنڈیشنز (کھیل کے قوانین) میں ایسی ترامیم تجویز کی گئی ہیں جو نہ صرف ٹیسٹ کرکٹ بلکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس کا نقشہ بھی بدل کر رکھ دیں گی۔ ان تجاویز میں سب سے سنسنی خیز اور منفرد تجویز ٹیسٹ میچ کے دوران سرخ اور گلابی گیند کا مشترکہ استعمال ہے۔
ایک ہی ٹیسٹ میچ میں سرخ اور گلابی گیند کا استعمال: ایک تاریخی فیصلہ
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سرخ گیند کو ہمیشہ سے ایک روایتی حیثیت حاصل رہی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچوں کے لیے گلابی (پنک) گیند کا استعمال شروع کیا گیا تھا۔ اب آئی سی سی ایک ایسا قدم اٹھانے جا رہی ہے جو روایتی کرکٹ کے حامیوں کے لیے حیران کن ہو سکتا ہے۔ تجویز کے مطابق، اب ایک ہی روایتی ٹیسٹ میچ کے دوران سرخ اور گلابی دونوں گیندوں کا استعمال کیا جا سکے گا۔
یہ تبدیلی اس وقت لاگو ہوگی جب میچ کے دوران خراب روشنی (بیڈ لائٹ) یا موسم کے باعث کھیل روکنا پڑے۔ ایسی صورتحال میں، اگر دونوں ٹیموں کے کپتان اور انتظامیہ متفق ہوں، تو کھیل کو فلڈ لائٹس کے نیچے جاری رکھنے کے لیے سرخ گیند کی جگہ گلابی گیند کا استعمال کیا جا سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق، اس تبدیلی کے لیے ‘باہمی رضامندی’ لازمی ہوگی۔ اگر ایک بھی ٹیم اس فیصلے سے اختلاف کرتی ہے، تو بولنگ کرنے والی ٹیم خراب روشنی میں گلابی گیند کا استعمال نہیں کر سکے گی۔
اس قانون کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ خراب روشنی کی وجہ سے ٹیسٹ میچز کے ڈرا ہونے یا وقت ضائع ہونے کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے گا۔ تاہم، یہ منتقلی اتنی سادہ نہیں ہوگی۔ میچ کے دوران پرانی سرخ گیند کی جگہ کس حد تک استعمال شدہ گلابی گیند دی جائے گی اور اس کے اوورز کا حساب کیسے رکھا جائے گا، یہ وہ پیچیدہ سوالات ہیں جن پر آئی سی سی کی کمیٹی مزید کام کر رہی ہے۔
قوانین میں تبدیلی کا یہ عمل کیسے کام کرتا ہے؟
آئی سی سی کے قوانین میں تبدیلی کا عمل انتہائی منظم اور کثیر الجہتی ہوتا ہے۔ یہ کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک پورا طریقہ کار موجود ہے۔ سب سے پہلے آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی، جس کی سربراہی سابق بھارتی کپتان سوربھ گانگولی کر رہے ہیں اور جس میں سابق کرکٹرز، امپائرز اور کوچز شامل ہیں، کھیل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات تیار کرتی ہے۔
اس کے بعد یہ تجاویز چیف ایگزیکٹوز کمیٹی (سی ای سی) کو بھیجی جاتی ہیں، جس میں تمام فل ممبر ممالک کے سی ای اوز شامل ہوتے ہیں۔ یہ کمیٹی ان تجاویز کی عملی افادیت، کھیل پر اثرات اور مالی و انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہے۔ یہاں سے منظوری کے بعد، حتمی توثیق کے لیے معاملہ آئی سی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس جاتا ہے، جس کے چیئرمین جے شاہ ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے آئی سی سی کے ورچوئل اجلاس میں ان قوانین پر تفصیلی بحث کی گئی، اور توقع ہے کہ 30 مئی کو احمد آباد میں ہونے والے اگلے بورڈ اجلاس میں ان قوانین کی حتمی منظوری دے دی جائے گی۔ عام طور پر نئے قوانین کی منظوری کے بعد آئی سی سی ایک مخصوص وقت مقرر کرتی ہے، اور یہ قوانین کسی نئی دوطرفہ سیریز یا آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹ سے نافذ العمل ہوتے ہیں۔
ون ڈے کرکٹ: ڈرنکس بریک کے دوران ہیڈ کوچز کی میدان میں آمد
ٹیسٹ کرکٹ کے علاوہ ون ڈے فارمیٹ میں بھی ایک اہم تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت ون ڈے میچ میں ڈرنکس بریک (مشروبات کے وقفے) کے دوران صرف متبادل کھلاڑیوں (سبسٹیٹیوٹ فیلڈرز) کو ہی میدان میں جانے کی اجازت ہوتی ہے جو پانی اور پیغام رسانی کا کام کرتے ہیں۔ لیکن اب نئی تجویز کے تحت، ٹیم کے ہیڈ کوچ کو بھی ڈرنکس بریک کے دوران میدان میں داخل ہونے اور کھلاڑیوں سے براہ راست حکمت عملی پر بات چیت کرنے کی اجازت ہوگی۔
ون ڈے کرکٹ میں ہر اننگز کے دوران دو ڈرنکس بریک ہوتے ہیں، جو کہ ایک گھنٹے اور 10 منٹ کے وقفے سے شیڈول کیے جاتے ہیں۔ اب ہیڈ کوچز کے پاس یہ موقع ہوگا کہ وہ میچ کی نازک صورتحال میں میدان میں جا کر کپتان اور بلے بازوں کو اہم مشورے دے سکیں۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کوچز کے لیے ٹیم کی آفیشل جرسی پہن کر میدان میں آنا لازمی ہوگا یا وہ عام لباس میں بھی جا سکیں گے۔ یہ قانون فٹ بال یا دیگر کھیلوں کی طرح کرکٹ میں بھی کوچ کے کردار کو مزید فعال اور نمایاں کر دے گا۔
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل: اننگز کے وقفے میں کمی
مختصر ترین فارمیٹ یعنی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھی آئی سی سی کھیل کی رفتار کو تیز تر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس وقت ٹی ٹوئنٹی میچوں میں دو اننگز کے درمیان 20 منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔ لیکن اب آئی سی سی نے تجویز دی ہے کہ اس اننگز بریک کو کم کر کے 15 منٹ کر دیا جائے۔ اس کا مقصد کھیل کے دورانیے کو کم کرنا اور شائقین کے لیے کھیل کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ 15 منٹ کے اس مختصر وقفے میں ٹیموں کو جلد از جلد دوبارہ میدان میں اترنا ہوگا، جس سے کھیل کی سنسنی خیزی میں مزید اضافہ ہوگا۔
خلاصہ
آئی سی سی کی جانب سے مجوزہ یہ ترامیم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کرکٹ کی گورننگ باڈی کھیل کو مزید جدید، تیز رفتار اور تماشائیوں کے لیے دلکش بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ سرخ اور گلابی گیند کا بیک وقت استعمال ٹیسٹ کرکٹ کو زندگی بخش سکتا ہے، جبکہ ہیڈ کوچز کی میدان میں آمد اور ٹی ٹوئنٹی کے دورانیے میں کمی کھیل کے اسٹریٹجک پہلوؤں کو مزید مضبوط کرے گی۔ اب دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی نظریں 30 مئی کے اجلاس پر لگی ہیں جہاں ان تاریخی فیصلوں پر حتمی مہر ثبت ہونے کی امید ہے۔
