Ishan Kishan’s Financial Help To Teammate Leaked – آئی پی ایل 2026: ایشان کشن کی اپنے ساتھی کھلاڑی ثاقب حسین کے لیے دریا دلی
کرکٹ کے میدان سے باہر ایک جذباتی کہانی
آئی پی ایل 2026 کا سیزن جہاں کئی دلچسپ مقابلوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا، وہیں سن رائزرز حیدرآباد کے بلے باز اور عارضی کپتان ایشان کشن کا ایک عمل سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ کشن نے اپنی ٹیم کے نوجوان کھلاڑی ثاقب حسین کی خاموشی سے جو مدد کی، وہ کھیل کی اصل روح کی عکاسی کرتی ہے۔
ثاقب حسین کی جدوجہد اور کشن کا ساتھ
دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر ثاقب حسین نے آئی پی ایل 2026 میں اپنے ڈیبیو سیزن میں 11 میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کر کے خود کو ایک ابھرتے ہوئے اسٹار کے طور پر منوایا۔ تاہم، ان کا یہاں تک پہنچنے کا سفر انتہائی کٹھن تھا۔ ایک انٹرویو کے دوران ثاقب نے انکشاف کیا کہ وہ اتنے غریب تھے کہ اچھے کرکٹ جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔
ثاقب حسین نے بتایا، ‘ایک وقت تھا جب میرے پاس جوتے نہیں تھے۔ میں 200 سے 300 روپے والے جوتے پہنتا تھا جو جلد ہی پھٹ جاتے تھے۔ ان جوتوں میں گرپ نہ ہونے کی وجہ سے میرا پاؤں پھسلتا تھا اور اکثر میرے ٹخنے میں موچ آ جاتی تھی۔ میں 12 سے 15 ہزار روپے کے جوتوں کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔’
جب یہ بات ایشان کشن تک پہنچی تو انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے مدد کا ہاتھ بڑھایا۔ کشن، جو خود بھی بہار کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور مالی مشکلات سے گزر چکے ہیں، ثاقب کے درد کو بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے ثاقب کو 6 سے 7 جوڑے مہنگے اسپورٹس جوتے (اسپائیکس) تحفے میں دیے۔ ثاقب کے مطابق، انہوں نے پورا سیزن انہی جوتوں کے ساتھ کھیلا جو ایشان نے انہیں فراہم کیے تھے۔
ایشان کشن کی شاندار کارکردگی
صرف انسانی ہمدردی ہی نہیں، بلکہ میدان کے اندر بھی ایشان کشن نے آئی پی ایل 2026 میں اپنی بہترین فارم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 15 میچوں میں 40.13 کی اوسط سے 602 رنز بنائے، جس میں 6 نصف سنچریاں اور 32 چھکے شامل تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب کشن نے ایک ہی سیزن میں 600 رنز کا ہندسہ عبور کیا، جس سے حیدرآباد کی ٹیم کو پلے آف میں پہنچنے میں بڑی مدد ملی۔
ٹیم کا پلے آف کا سفر اور ایلیمینیٹر میں شکست
اگرچہ حیدرآباد نے شاندار کھیل پیش کیا، لیکن ایلیمینیٹر میچ میں انہیں راجستھان رائلز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میچ میں راجستھان کے ویبھو سوریونشی نے 29 گیندوں پر 97 رنز کی تباہ کن اننگز کھیلی۔ 243 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں حیدرآباد کی ٹیم دباؤ کا شکار رہی اور 196 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس شکست کے بعد حیدرآباد کا ٹورنامنٹ سے سفر ختم ہو گیا، لیکن ایشان کشن اور ثاقب حسین جیسے کھلاڑیوں کی محنت اور باہمی تعاون مداحوں کے ذہنوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا۔
نتیجہ
کھیل صرف ریکارڈز توڑنے کا نام نہیں ہے، بلکہ ساتھی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ ایشان کشن کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ بڑے ستارے وہی ہوتے ہیں جو اپنے ساتھیوں کی مشکلات کو اپنی مشکل سمجھتے ہیں۔ کرکٹ کی دنیا میں ایسے واقعات کھیل کو مزید خوبصورت اور باوقار بناتے ہیں۔
