KKR vs GT IPL 2026: میچ 60 کا تجزیہ اور پیش گوئی
آئی پی ایل 2026 کے فیصلہ کن مرحلے میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز اور گجرات ٹائٹنز مدمقابل ہیں۔ جہاں کے کے آر کے لیے بقا کی جنگ ہے، وہیں گجرات ٹائٹنز پلے آف میں اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
آئی پی ایل 2026 کے فیصلہ کن مرحلے میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز اور گجرات ٹائٹنز مدمقابل ہیں۔ جہاں کے کے آر کے لیے بقا کی جنگ ہے، وہیں گجرات ٹائٹنز پلے آف میں اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
سری لنکا کرکٹ میں جاری حالیہ ہنگامہ خیزی اور حکومتی مداخلت کے بعد آئی سی سی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے اپنا اعلیٰ سطحی وفد کولمبو بھیج دیا ہے تاکہ معاملات کی نوعیت کا جائزہ لیا جا سکے۔
آئی پی ایل 2026 کے 60ویں میچ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز اپنے ہوم گراؤنڈ ایڈن گارڈنز پر گجرات ٹائٹنز کا سامنا کرے گی۔ پلے آف کی دوڑ میں شامل رہنے کے لیے کے کے آر کو یہ میچ جیتنا لازمی ہے، جبکہ گجرات ٹائٹنز اپنی شاندار فارم کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
کیریبین پریمیئر لیگ 2026 کا پلیئر ڈرافٹ تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ ثابت ہوا، جس میں سات فرنچائزز نے اپنی ٹیموں کی تشکیل مکمل کر لی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کن کھلاڑیوں کو برقرار رکھا گیا اور کون سے نئے ابھرتے ہوئے ستارے میدان میں اترنے کے لیے تیار ہیں۔
آئی پی ایل 2026 میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے کپتان رشبھ پنت مشکل میں گھر گئے ہیں۔ چنئی سپر کنگز کے خلاف میچ میں مقررہ وقت سے زیادہ وقت لینے پر بی سی سی آئی نے انہیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
آئی پی ایل 2026 کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں، لکھنؤ سپر جائنٹس کے آکاش سنگھ کے منفرد جشن کے انداز کو چنئی سپر کنگز کے کارتک شرما نے اپنی شاندار بیٹنگ سے خاموش کر دیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے گورننس سے متعلق سنگین مسائل کی بنا پر کرکٹ کینیڈا کی فنڈنگ چھ ماہ کے لیے منجمد کر دی ہے، جس سے بورڈ کو اپنے مالیاتی مستقبل کے حوالے سے شدید بحران کا سامنا ہے۔
بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا فیصلہ کن معرکہ 16 مئی کو سلہیٹ میں شروع ہو رہا ہے۔ پہلا ٹیسٹ جیتنے کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم سیریز اپنے نام کرنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ پاکستان کو سیریز برابر کرنے کے لیے اپنی بیٹنگ لائن میں بہتری لانا ہوگی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے مستقبل کے ڈھانچے اور فارمیٹ پر نظر ثانی کے لیے اہم اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں ٹیسٹ کرکٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے تجاویز زیر غور آئیں گی۔
آئی پی ایل کی جانب سے زخمی کھلاڑیوں کے متبادل کے طور پر پی ایس ایل کے سٹارز کو منتخب کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کیا یہ آئی پی ایل سکاؤٹس کی مقامی ٹیلنٹ سے بے رخی ہے یا پھر پی ایس ایل کی بڑھتی ہوئی ساکھ کا نتیجہ؟