وسیم جعفر کا محمد شامی کے ساتھ امتیازی سلوک پر اجیت اگرکر پر سخت ردعمل
وسیم جعفر کا سخت موقف: شامی کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں؟
بھارتی کرکٹ کے حلقوں میں ان دنوں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ سابق بھارتی بلے باز وسیم جعفر نے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر اور بی سی سی آئی (BCCI) کی جانب سے تجربہ کار فاسٹ بولر محمد شامی کو مسلسل نظر انداز کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ شامی، جنہیں طویل عرصے سے ٹیسٹ اسکواڈ سے دور رکھا گیا ہے، حالیہ فیصلوں نے کرکٹ کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔
سلیکشن کمیٹی کا متنازعہ بیان اور جعفر کا ردعمل
اجیت اگرکر کا یہ کہنا کہ شامی صرف مختصر فارمیٹ کے لیے فٹ ہیں، وسیم جعفر کو بالکل پسند نہیں آیا۔ جعفر نے اس وضاحت کو ‘بکواس’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک عالمی معیار کے کھلاڑی کی تذلیل ہے۔ جعفر کا ماننا ہے کہ سلیکٹرز کو شامی کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے بجائے اس کے کہ انہیں صرف ٹی 20 کھلاڑی قرار دے کر ٹیسٹ کرکٹ سے باہر رکھا جائے۔
رانجی ٹرافی میں شامی کی شاندار کارکردگی
وسیم جعفر نے شامی کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ شامی نے رانجی ٹرافی میں بنگال کی ٹیم کو تنہا سیمی فائنل تک پہنچایا ہے۔ ان کے اعداد و شمار خود بولتے ہیں:
- رانجی ٹرافی: 7 میچوں میں 37 وکٹیں حاصل کیں۔
- سید مشتاق علی ٹرافی: 16 وکٹیں حاصل کیں۔
- وجے ہزارے ٹرافی: 15 وکٹیں حاصل کیں۔
جعفر کا سوال ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں ایسی کارکردگی دکھا رہا ہو تو اسے بین الاقوامی ریڈ بال کرکٹ سے کیوں دور رکھا جا رہا ہے؟
شامی اور بمراہ کا موازنہ
وسیم جعفر نے ایک انتہائی اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیا بی سی سی آئی جسپریت بمراہ کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرے گی؟ جعفر کے مطابق، شامی اور بمراہ دونوں ایک ہی درجے کے مہارت رکھنے والے بولرز ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘اگر بمراہ فٹ نہیں ہوتے اور پھر واپسی کرتے ہیں، تو کیا آپ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کریں گے؟ شامی کو اس طرح نظر انداز کرنا کسی بھی بڑے بولر کی توہین ہے۔’
موجودہ صورتحال اور ورک لوڈ مینجمنٹ
دوسری جانب، جسپریت بمراہ کو افغانستان کے خلاف ٹیسٹ میچ اور ون ڈے سیریز سے آرام دیا گیا ہے۔ بی سی سی آئی کا مؤقف ہے کہ وہ بمراہ کے ورک لوڈ کو مینیج کر رہے ہیں۔ تاہم، آئی پی ایل 2026 کے 19ویں سیزن میں بمراہ کی فارم کچھ خاص نظر نہیں آ رہی ہے اور وہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد سے اپنی بہترین ردھم میں نہیں ہیں۔
نتیجہ
محمد شامی، جو اس وقت آئی پی ایل میں لکھنؤ سپر جائنٹس کی نمائندگی کر رہے ہیں، اپنی فٹنس اور فارم ثابت کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ وسیم جعفر کا یہ سخت بیان بی سی سی آئی اور سلیکشن کمیٹی کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کھلاڑیوں کے ساتھ میرٹ اور انصاف پر مبنی سلوک ہی ٹیم کو مزید مستحکم بنا سکتا ہے۔ کیا سلیکٹرز اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کریں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
