WPL میں توسیع کی بازگشت: پنجاب کنگز کے مالکان کی خواتین لیگ میں دلچسپی
خواتین کرکٹ میں نئے دور کا آغاز
گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین کی کرکٹ نے جس تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے، وہ کرکٹ کے شائقین کے لیے کسی خوشگوار حیرت سے کم نہیں۔ 2023 میں ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) کے آغاز اور پھر 2025 میں بھارت کی ہوم گراؤنڈ پر ورلڈ کپ میں تاریخی فتح نے خواتین کرکٹ کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ ان کامیابیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈومیسٹک سطح پر موجود ٹیلنٹ اب بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
پنجاب کنگز کے مالکان کی WPL میں شمولیت کی خواہش

خواتین کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب سرمایہ کاروں کی توجہ بھی اس طرف مبذول ہو رہی ہے۔ پنجاب کنگز کے 48 فیصد حصص کے مالک، بھارتی کاروباری شخصیت موہت برمن نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران WPL میں اپنی ٹیم خریدنے کی خواہش کا برملا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بی سی سی آئی کی جانب سے خواتین کرکٹرز کو فراہم کردہ پلیٹ فارم کو سراہتے ہوئے کہا کہ WPL نے بہت کم وقت میں خواتین کے کھیل کو ایک نئی شناخت دی ہے۔
موہت برمن نے مزید کہا کہ ہر کاروباری گروپ سرمایہ کاری کے فیصلے اپنے طویل مدتی اہداف اور اسٹریٹجک ترجیحات کے مطابق کرتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ابتدائی طور پر اس میں سرمایہ کاری نہیں کی تھی، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انہیں خواتین کرکٹ کی صلاحیتوں پر یقین نہیں ہے۔ ان کے مطابق، خواتین کرکٹ کا مستقبل انتہائی تابناک ہے اور وہ مستقبل میں ایک WPL ٹیم کے مالک بننے کے خواہشمند ہیں۔
کیا بی سی سی آئی WPL میں توسیع کرنے جا رہا ہے؟
فی الحال، ویمنز پریمیئر لیگ پانچ ٹیموں پر مشتمل ایک مقابلہ ہے، جس میں سے تین ٹیموں کے مالکان آئی پی ایل کی فرنچائزز بھی ہیں۔ ممبئی انڈینز اور رائل چیلنجرز بنگلور اب تک دو دو ٹائٹل جیت چکے ہیں، جبکہ دہلی کیپٹلز نے لیگ کے آغاز سے اب تک ہر فائنل میں جگہ بنائی ہے۔
موہت برمن جیسے بڑے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باوجود، بی سی سی آئی نے فی الحال لیگ میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا کوئی فوری ارادہ نہیں ظاہر کیا ہے۔ آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل کے مطابق، بورڈ کی ترجیح فی الحال موجودہ ڈھانچے کو مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی نئے اضافے سے قبل لیگ کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانا ضروری ہے۔
خواتین کرکٹ پر WPL کے گہرے اثرات
کئی سالوں سے بھارتی خواتین ٹیم دنیا کی ٹاپ 3 یا 4 ٹیموں میں شمار ہوتی رہی ہے اور اکثر آئی سی سی ایونٹس کے ناک آؤٹ مراحل تک پہنچتی رہی ہے۔ تاہم، WPL نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ آسٹریلیا میں WBBL (ویمنز بگ بیش لیگ) نے جس طرح وہاں کے ٹیلنٹ کو نکھارا ہے، اسی ماڈل کو اپناتے ہوئے اب بھارتی کھلاڑیوں کو بھی ڈومیسٹک سطح پر معیاری کرکٹ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔
دیگر لیگز جیسے کہ انگلینڈ کی ‘دی ہنڈریڈ’، ویسٹ انڈیز کی WCPL اور نیوزی لینڈ کی ویمنز سپر سمیش نے بھی خواتین کرکٹ کے عالمی معیار کو بہتر بنایا ہے۔ اب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) بھی رواں برس WBPL کا آغاز کرنے جا رہا ہے، جو کہ خواتین کرکٹ کے فروغ کی جانب ایک اور بڑا قدم ہے۔
نتیجہ: یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے وقتوں میں بی سی سی آئی کب WPL کی توسیع کا فیصلہ لیتا ہے۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ خواتین کرکٹ کا سنہرا دور شروع ہو چکا ہے، اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس کھیل کو مزید مالی استحکام اور وقار بخشے گی۔
